BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 September, 2004, 04:03 GMT 09:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لہجے میں دھیمہ پن، انداز میں نرمی

News image
صدر مشرف کی اقوام متحدہ کے انسٹھویں سالانہ اجلاس میں تقریر اور ان کا لب و لہجہ خاصا غیر روایتی تھا۔

اس مرتبہ انہوں نے نہ تو ماضی کی طرح بھارت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور نہ ہی یہ کہا کہ بھارت کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

انہوں نے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے معاملے کو بھی نہیں اچھالا اور اس استحصال کی بات بھی نہیں کی جس کا ذکر گزشتہ سال انہوں نے بہت زور شور سے کیا تھا۔

اس کے برخلاف اس بار انہوں نے امیدوں کی بات کی، پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے معاملے کا ذکر کیا اوریہ توقع ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت کشمیر سمیت تمام مسائل حل کر لیں گے۔

جنرل مشرف نے کشمیر کو ایک مسئلہ کی بجائے ایک باہمی تنازعہ قرار دیا اور کہا کہ اسے لچک دار رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حل کر لیا جائے گا انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت بھی اسی نیک نیتی اور لچک کا مظاہرہ کرے گا جس کا پاکستان کر رہا ہے۔

مسلم دنیا کے مسائل کا ذکر رکے ہوئے انہوں نے نئی حکمتِ عملی اور روشن خیال اعتدال پسندی اپنانے کی بات کی۔

صدر مشرف نے مغربی ملکوں سے کہا کہ وہ نشاط الثانیہ کے لیے مسلمان ملکوں کی ویسی مدد نہیں کر رہے جیسی انہیں کرنی چاہیے۔

مشرقِ وسطیٰ کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی صدر نے کہا کہ وہ امریکہ کی طرح مشرقِ وسطیٰ تنازعہ کے اس دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں جس میں اسرائیل کو بھی اپنا وجود قائم رکھنے کا حق حاصل ہو اور فلسطینیوں کو بھی ایک وطن مل جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کے وجود رکھنے کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو مقبوضہ عرب علاقے خالی کرنے چاہیں اور فلسطینی علاقوں میں تعمیر کی جانے والی متنازعہ فصیل ختم کر دینی چاہیے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے فلسطینی صدر یاسر عرفات سے اپیل کی کہ وہ اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے انتفادہ کو ختم کرانے کی کوشش کریں۔

ایک اور نمایاں فرق ان کی تقریر میں یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کا ذکر کیا گزشتہ سال ان کی تقریر میں جمہوریت کا ذکر نہیں تھا لیکن اس بار انہوں نے اپنے متعارف کرائے ہوئے بلدیاتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے اسے انقلابی قرار دیا اوت کہا کہ ان کا ملک اچھے طرزِ حکومت اور جمہوریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ان کے متعارف کرائے ہوئے نظام کے نتیجے میں خواتین کی نمائندگی بڑھی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد