مشرف کی مذمت سےامریکہ کا انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے فوجی سربراہ کی وردی نہ اتارنے کے فیصلے کے بعد اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوری تبدیلیوں کی حمایت میں ناکام رہا ہے۔ محکمۂ خارجہ کے ترجمان رچرڈ باؤچر نے صدر مشرف کے اس بیان کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا کہ جس میں جنرل مشرف نے کہا تھا کہ وہ اس ماہ کے آخر تک فوج کی سربراہ کی حیثیت سے سبکدوش نہیں ہوں گے جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا۔ جب صدر مشرف نے ایم ایم کے دباؤ اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ معاہدے کی غرض سے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اکتیس دسمبر تک اپنی وردی اتار دیں گے، تو امریکہ نے صدر مشرف کے اس اعلان کی حمایت کی تھی۔ محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے کھلم کھلا اور نجی طور پر بھی پاکستان میں جمہوریت کی جانب پیش رفت کے عمل کی مسلسل حمایت کی ہے اور اس معاملے پر صدر مشرف سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔ قبل ازیں صدر بش نےایک پریس کانفرنس میں القاعدہ کے خلاف صدر مشرف کی کارکردگی کی تعریف کی تھی۔ سترہ دسمبر کو صدر پرویز مشرف نے پہلی بار کھل کر یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اکتیس دسمبر کے بعد بھی وردی نہیں اتاریں گے۔ حکومت اور حزب مخالف کی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل میں گزشتہ سال ہونے والے سمجھوتے میں یہ طے ہوا تھا کہ اکتیس دسمبر سن دو ہزار چار تک صدر جنرل پرویز مشرف فوجی عہدہ چھوڑ دیں گے۔ اس معاہدے کے بعد صدر نے خود بھی ریاستی ٹی وی چینل پر قوم سے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ وہ اکتیس دسمبر تک آرمی چیف کا عہدہ چھوڑدیں گے۔ تاہم ایک حالیہ انٹرویو میں صدر نے کہا ہے کہ ملکی حالات اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ان کا فوجی عہدہ رکھنا ضرروی ہے اور وہ اس ضمن میں چند دنوں میں قوم سے خطاب کریں گے اور اسے اعتماد میں لیں گے کہ ایسا کیوں ضروری ہے؟ حکمران اتحاد نے پارلیمان سے سادہ اکثریت سے ایک قانون بھی منظور کرایا ہے جس میں جنرل پرویز مشرف کو یہ قانونی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جب تک صدر کے عہدے پر فائز ہیں اس وقت تک آرمی چیف کا عہدہ رکھنے کے بھی مجاز ہیں۔ اپنے انٹرویو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ جو لوگ بھی فوجی وردی کے مخالف ہیں وہ جمہوریت کے مخالف ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||