بلدیاتی انتخابات، پکڑ دھکڑ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال والے دن مختلف علاقوں سے حکومت مخالف امیدواروں کی گرفتاریوں، ان کے خلاف مقدمات درج کرنے، ریٹرننگ افسران کے دفاتر جانے سے روکنے اور تشدد کی اطلاعات ملی ہیں۔ انتخابی قواعد کے مطابق کاغذات کی جانچ پڑتال کے موقع پر امیدواروں اور ان کے تجویز و تائید کنندگان کی موجودگی ضروری ہے۔ سنیچر کےروز پہلے مرحلے کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہونی تھی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے آبائی ضلع تھرپارکر میں عوام دوست پینل کے متعدد امیدواروں کو کاغذات کی جانچ پڑتال کے لیے جاتے ہوئے پولیس نے روک لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ کئی امیدوار لاپتہ ہیں اور بعض کو گھروں سے اٹھا لیا گیا۔ سنیچر کے روز یونین کونسل کلوئی، بھٹارو، سوبھیار کے عوام دوست پینل سے تعلق رکھنے والے ناظمین، نائب ناظمین، مرد، خواتین اور اقلیتی کونسلر امیدوار ان کے تجویز و تائید کنندگان کے ہمراہ کاغذات کی جانچ پڑتال کے لیے ریٹرننگ افسر ڈیپلو کے دفتر جا رہے تھے کہ ڈیپلو شہر کے باہر پولیس نے انہیں روک لیا اور گاڑیوں سے زبردستی اتار کر ان پر لاٹھی چارج کیا۔ جس سے کئی امیدوار زخمی ہوگئے جس میں خواتین بھی شامل ہیں۔ بعد میں پولیس انہیں گرفتار کر کے لے گئی۔ دوسری طرف یونین کونسل چھاچھرو کے ناظم کے امیدوار عمر بجیر اور خواتین کونسلر کو دو روز قبل نامعلوم افراد گھروں سے بلا کر لے گئے۔ پیپلز پارٹی ضلع تھرپارکر کے جنرل سیکریٹری دادن ہنگورجو نے بتایا کہ حکومت کے شدید دباؤ کے باعث ان کی جماعت ضلع کی چوالیس میں سے بیس یونین کونسلوں میں امیدوار کھڑے کر پائی ہے۔ کراچی میں سنی تحریک کے ترجمان شہزاد منیر نے دعوٰی کیا ہے کہ ان کی جماعت کے حامی انسان دوست پینل کے سات امیدواروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن میں ایک ناظم کا امیدوار بھی شامل ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ علی محمد مہر کے آبائی ضلع گھوٹکی میں ایک ناظم کے امیدوار کو ریٹرننگ افسر کے دفتر کے قریب پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتار کر لیا۔ پی پی کے رہنما سیف اللہ دھاریجو نے بتایا کہ گھوٹکی میں انتظامیہ نےدھاندلیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پچاس سے زائد امیدوار غائب ہیں اور ان پر تشدد کر کے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
ٹنڈو الہ یار ضلع کی یونین کونسل چمبڑ میں ناظم اور نائب ناظم امیدواروں کے خلاف ایک عورت کے اغوا کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے جب کہ مبینہ اغوا ہونے والی عورت نے حیدرآباد پہنچ کر صحافیوں کو بتایا کہ انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا، بلکہ اسے اخبار میں پڑھ کر پتہ چلا کہ اسے اغوا کیاگیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران پارٹی کے ایک بااثر فرد کے اشارے پر یہ مقدمہ قائم کیاگیا ہے تاکہ پی پی پی کے حامی دو ناظمین کے امیدواروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ اس خاتون نے بتایا کہ ان کے شوہر دو دن سے لاپتہ ہیں۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر کے آبائی ضلع عمر کوٹ میں یونین کونسل ڈھورو نارو کے عوام دوست پینل کے ناظم امیدوار محمد حسن ملاح کوگرفتار کرلیاگیا ہے۔ پنجاب اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ضلع کشمور میں پولیس کی ایک بڑی نفری نے عوام دوست پینل کے اہم رہنما حضور بخش نندوانی کے گاؤں پر کارروائی کر کے بیس افراد کوگرفتار کر لیا ہے۔ پی پی پی کے رہنما میر ہزار خان بجارانی نے اس کارروائی کا الزام حکومت کے حامی ایک سردار سلیم جان مزاری پر عا ئد کیا ہے جو حکمران پارٹی کے ضلع ناظم کے متوقع امیدوار بھی ہیں۔ ادھر پیپلز پارٹی نے بھی پری پول دھاندلیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات تاج حیدر کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی نے بتایا ہے کہ گھوٹکی، تھرپارکر، جامشورو، نوری آباد اور دیگر علاقوں میں عوام دوست امیدواروں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||