سندھ کاغذات نامزدگی داخل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں ضلعی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 1112 یونین کونسلوں میں چھ کیٹیگریز کی نشستوں کے لیے ستائیس ہزار دو سو اسی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ کراچی میں ایک سو اٹھہتر یونین کونسلز کے لیے گیارہ سو امیدوار ہیں۔ مسلم جنرل نشستوں کے لیے ساڑھے چار ہزار، خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے ساڑھے چودہ سو، ہاری مزدور نشستوں کے لیے بائیس سو چھتیس، خواتین ورکرز نشستوں کے لیےگیارہ سو، اقلیتوں کی نشستوں پر پانچ سو اٹھاسی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ ضلع ٹھٹہ کی پچپن یونین کونسل کے لیے اٹھارے سو پندرہ، ٹنڈوالہ یار کی اٹھارہ یونین کونسلز کے لیے نو سو اکسٹھ ، گھوٹکی کی بیالیس یونین کونسل کے لیے گیارہ سو دس امیدوار ہیں۔ نوشہرو فیروز کی اکاون یونین کونسل کے لیے ساڑھے بائیس سو امیدواروں نے فارم جمع کروائے ہیں۔ جیکب آباد کی چالیس یونین کونسلز کے لیے سولہ سو امیدوار ہیں ۔ کشمور کی سینتیس یونین کونسلز کے لیے ساڑھے چودہ سو امیدوار ہیں۔ میرپورخاص کی اکتالیس یونین کونسلز کے لیے انیس سو ستر، عمرکوٹ کی ستائیس یونین کونسلز کے لیے گیارہ سو چونسٹھ، سانگھڑ کی پچپن یونین کونسلز کے لیے اکیس سو، اور تھرپارکر کی چوالیس یونین کونسلز کے لیے ساڑھے بارہ سوامیدواروں نے کاغذات نامزدگی فارم جمع کروائے ہیں ۔ موجودہ بلدیاتی انتخابات میں سخت معرکہ آرائی کا امکان ہے کیونکہ گزشتہ ٹرم میں یونین کونسل میں کل اکیس نشستیں تھیں جوکہ اب دوسرے ٹرم میں گھٹا کر تیرہ کردی گئی ہیں۔لہذا اب نشستیں کم اور امیدوار زیادہ ہیں۔ باقی اضلاع میں انتخابات دوسرے مرحلے میں ہونگے۔ جن کے لیے کاغذات نامزدگی پچیس سے ستائیس جولائی تک وصول کیے جائیں گے۔ اور دوسرے مرحلے کے انتخابات ستائیس اگست کو ہونگے۔ دوسرے مرحلے میں ملک کے 56 اضلاع میں یونین کونسل کے انتخابات ہونگے۔ تیسرے مرحلے کے لیے کاغذات نامزدگی سات ستمبر کو وصول کئے جائیں گے اور پولنگ انتیس ستمبر کو ہوگی۔ ناظمین کے لیے کاغذات نامزدگی کی فیس پانچ ہزار روپے اور کونسلروں کے لیے ایک ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔گزشتہ بلدیاتی انتخابات جداگانہ ہوئے تھے لیکن اب مشترکہ ہونگے۔ امیدواروں پر اعتراضات بائیس جولائی کو، کاغذات کی چھان بین بائیس اور تئیس جولائی کو ہوگی۔انتیس جولائی کو امیدواروں کی حتمی فہرست شائع کی جائےگی۔ اٹھارہ اگست کو پہلے مرحلے کی پولنگ ہوگی۔ جبکہ نتائج کا اعلان بیس اگست کو ہوگا۔ انتخابات میں ناظم اور نائب ناظم کے لیے کم از کم میٹرک کی شرط رکھی گئی ہے۔ جبکہ تمام کیٹگریز کےکونسلر کے لیے تعلیمی حد مقرر نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||