ایم کیو ایم کی انتخابی مہم کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ نے بلدیاتی انتخابات کے لئے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے اور اس ضمن میں نشتر پارک میں پہلا خواتین کا جلسہ عام منعقد کیا ہے جس میں سندھ بھر سے خواتین نے شرکت کی۔ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ٹیلی فون سے جلسے سے خطاب کرتے ہوتے ہوئے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت ان انتخابات میں کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دےگی۔ الطاف حسین نے کراچی میں علما کے حالیہ قتل کا الزام جماعت اسلامی اور اس کے سربراہ قاضی حسین احمد پر عائد کیا۔ ایم کیو ایم کے سربراہ نے الیکشن منشور بتاتے ہوئےکہا کہ ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات جیتنے کے بعد اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں کمی کرے گی اورمکمل طور اقتدار میں آکر جہیز کی لعنت کو مکمل طور ختم کرےگی اور غیرت کے نام پر قتل اور کارو کاری کے مقدمات دفعہ تین سو دو کے تحت قابل سزا جرم قرار دینے کے لئے قانون سازی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ ایم کیو ایم کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے یا اس کا ووٹ بینک کم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کسی مذہبی مسلک کے خلاف نہیں ہے اور جو مسلمانوں کے کسی بھی مسلک کو کافر قرار دے گا وہ خود کافر ہوگا۔ جلسے کا انتظام کرنے پر انہوں نے گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ اور رینجرز کا شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ بلدیاتی انتخابات کا ایم کیو ایم نے بائیکاٹ کیا تھا، جبکہ موجودہ انتخابات میں پورے سندھ میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||