BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 June, 2005, 20:34 GMT 01:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم کیو ایم انتخابی ضابطہ اخلاق

متحدہ قومی موومنٹ
امن امان مخدوش ہونے کی بات ہر محب وطن جماعت کے لیے تشویشناک ہے۔
کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے قبل متحدہ قومی موومنٹ نے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مابیں ایک ضابطہ اخلاق بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اور اس ضمن میں تین جولائی کو کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار، نسریں جلیل اور دیگر ارکین نے بدھ کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں لگ بھگ تمام ہی سیاسی و مذہبی جماعتیں کرچکیں ہیں مگر ایک نکتہ جو قابل غور ہے وہ یہ کہ بعض عناضر کی جانب سے یہ پروپگنڈہ کیا جارہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں امن اماں کی صورتحال مخدوش ہوسکتی ہے اور یہ بات ہر محب وطن جماعت کے لیے تشویشناک ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے بتایا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے امن امان کی فضاخوشگوار رکھنے کیلیے تمام سیاسی و مذھبی جماعتوں کے درمیان متفقہ طور پر ضابطہ اخلاق طے کرنے کے لیے کل جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو یہ دعوت دی جائیگی کہ وہ ایک میز پر بیٹھ کر ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ضابطہ اخلاق طے کریں تاکہ انتخابات میں اسے نافذ کر کے ایک نئے کلچر کو فروغ دیا جائے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ملک کی تمام جماعتوں کو عدم تشدد کے ایک نکتے پر متحد ہوکر جیو اور جینے دو کا حوالہ مضبوط کرنا چاہیے۔ تاکہ امن دشمن عناصر کو امن امان کی صورتحال خراب کرنے کا موقع نے مل سکے۔

ضابطہ اخلاق کے بارے میں نسریں جلیل کہنا تھا کہ ہماری تجویز ہے کہ ایک دوسری کے خلاف تقاریر اور وال چاکنگ نہ کی جائے جبکہ دیگر جماعتیں بھی تجاویز پیس کرینگی۔

واضح رہے کہ کراچی میں متحدہ مجلس عمل کے رہنما جمال طاہر، اسلم مجاھد اور سنی تحریک کے کارکنوں کی قتل کے بعد کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ایم ایم اے تعلق رکھنے والے سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے خلاف متحدہ کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔ جبکہ نعمت اللہ خان نے انتخابات میں دوبارہ حصے لینے کا اعلان کیا ہے۔

ایم ایم اے کے رہنما قاضی حسین احمد نے مطالبہ کیا تھا کہ موجودہ گورنر کی موجودگی میں شفاف اور غیرجانبدار انتخابات نہیں ہوسکتے اس لیے ان کو ہٹایا جائے۔ ایم ایم اے کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل احتجاج کیا جارہا ہے۔

66کرے کوئی بھرے کوئی
مفرور بیٹے کے سبب پچانوے سالہ باپ گرفتار
66سگے بھائیوں کا قتل
خاندان کی وضاحت پرپولیس موقف تبدیل
66کراچی: خوفزدہ پولیس
کیا پولیس ڈاکو کی دھمکی سے ڈر گئی؟
66کہانیاں کیا کیا؟
’رات بھر آنکھیں بچھائے رہے پر وہ نہیں آئے‘
66’ڈاکو کا وائٹ ہاؤس‘
مبینہ رحمان ڈاکو کا وائٹ ہاوس زمین بوس
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد