ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی |  |
 |  امن امان مخدوش ہونے کی بات ہر محب وطن جماعت کے لیے تشویشناک ہے۔ |
کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے قبل متحدہ قومی موومنٹ نے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مابیں ایک ضابطہ اخلاق بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اور اس ضمن میں تین جولائی کو کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار، نسریں جلیل اور دیگر ارکین نے بدھ کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں لگ بھگ تمام ہی سیاسی و مذہبی جماعتیں کرچکیں ہیں مگر ایک نکتہ جو قابل غور ہے وہ یہ کہ بعض عناضر کی جانب سے یہ پروپگنڈہ کیا جارہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں امن اماں کی صورتحال مخدوش ہوسکتی ہے اور یہ بات ہر محب وطن جماعت کے لیے تشویشناک ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے بتایا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے امن امان کی فضاخوشگوار رکھنے کیلیے تمام سیاسی و مذھبی جماعتوں کے درمیان متفقہ طور پر ضابطہ اخلاق طے کرنے کے لیے کل جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو یہ دعوت دی جائیگی کہ وہ ایک میز پر بیٹھ کر ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ضابطہ اخلاق طے کریں تاکہ انتخابات میں اسے نافذ کر کے ایک نئے کلچر کو فروغ دیا جائے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ملک کی تمام جماعتوں کو عدم تشدد کے ایک نکتے پر متحد ہوکر جیو اور جینے دو کا حوالہ مضبوط کرنا چاہیے۔ تاکہ امن دشمن عناصر کو امن امان کی صورتحال خراب کرنے کا موقع نے مل سکے۔ ضابطہ اخلاق کے بارے میں نسریں جلیل کہنا تھا کہ ہماری تجویز ہے کہ ایک دوسری کے خلاف تقاریر اور وال چاکنگ نہ کی جائے جبکہ دیگر جماعتیں بھی تجاویز پیس کرینگی۔ واضح رہے کہ کراچی میں متحدہ مجلس عمل کے رہنما جمال طاہر، اسلم مجاھد اور سنی تحریک کے کارکنوں کی قتل کے بعد کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ایم ایم اے تعلق رکھنے والے سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے خلاف متحدہ کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔ جبکہ نعمت اللہ خان نے انتخابات میں دوبارہ حصے لینے کا اعلان کیا ہے۔ ایم ایم اے کے رہنما قاضی حسین احمد نے مطالبہ کیا تھا کہ موجودہ گورنر کی موجودگی میں شفاف اور غیرجانبدار انتخابات نہیں ہوسکتے اس لیے ان کو ہٹایا جائے۔ ایم ایم اے کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل احتجاج کیا جارہا ہے۔ |