مرنے والے کیا کیا کہانیاں چھوڑ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ ساری رات دروازے پر آنکھیں بچھائے رہے مگر آفتاب نہیں آیا۔ صبح کو ’ کے ایف سی‘ گلشن اقبال میں انہیں اپنے بھائی کی موت کا پتہ چلا۔ کراچی میں پیر کی شب مدینۃ العلم مدرسے پر خودکش حملے کے بعد کے ایف سی کو نذر آتش کیاگیا تھا، جس میں آفتاب مسیح سمیت چھ ملازمین جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ چھ کے چھ ہلاک ہونے والے بہت ہی غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے اور مرنے کے بعد اپنے پیچھے بہت سارے دکھ اور بہنوں بھائیوں اور والدین کے خواب ادھورے چھوڑگئے ہیں۔ کراچی شہر کی کچی آبادی کرسچین کالونی کے اس گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔ سترہ سالہ آفتاب مسیح کو واقعے سے پانچ دن قبل کے ایف سی میں نوکری ملی تھی۔ اس کے بڑے بھائی 24 سالہ شمعون نے بتایا کہ ’ہمیں تو واقعے کا علم ہی نہ تھا، ساری رات آفتاب کا انتظار کرتے رہے۔ صبح کو آٹھ بجے کے ایف سی پہنچ گئے، جہاں بتایا گیا کہ آپکا بچہ فوت ہوگیا ہے۔ ہم نے ایدھی سینٹر پہنچ کر آفتاب کے سینے پر موجود تلوں سے اس کی شناخت کی۔‘ کراچی کے پسماندہ علاقے میں دو کمروں کے مکان میں رہنے والا آفتاب ساتویں جماعت کا طالب علم تھا، اسکول کی چھٹیاں ہوجانے کی وجہ سے اس نے ملازمت اختیار کی۔ شمعوں بتاتے ہیں کہ آفتاب کام کرکے اپنا نصاب اور اسکول یونیفارم خریدنا چاہتا تھا۔ آفتاب کے تین بھائی اور تیں بہنیں ہیں۔ والد کا انتقال ہوچکا ہے، دو مہینے قبل بہنوئی کا بھی انتقال ہوگیا۔ شمعون نے بتایا کہ اب بہن ہمارے ساتھ رہتی ہے۔گھر میں اب صرف میں کماتا ہوں، بھائی ہوزری کا کام سیکھ رہے ہیں۔ امی بہت بوڑھی ہیں چل پھر نہیں سکتیں۔ متوفی سلیم کے گھر تو بڑے بھائی کی شادی کے گیت گائے جارہے تھے۔ پانچ جون کو ایبٹ آباد جانے کے لیے ٹرین کے ٹکٹ بھی خرید کر رکھے ہوئے تھے۔ مگر اس خوشی سے ایک ہفتہ پہلے گھر ماتم کدہ بن گیا۔ سلیم کی عمر چھبیس برس تھی۔ اس کے بڑے بھائی نے بتایا کہ سلیم وقوعہ کی رات آٹھ بجے آنے کا کہہ کرگیا تھا۔
ریلوے کالونی کے رہائشی صابر نے بتایا کے ’ہم تو ہنگاموں سے لاعلم تھے۔ ہمیں رات کو ڈھائی بجے سلیم کے دوست کا فون آیا کے وہ فوت ہوچکا ہے اور لاش جناح اسپتال میں پڑی ہے۔‘ سلیم کے والد عبدالرحمان بتاتے ہیں کہ رات کے وقت کوئی ٹیکسی والا جناح اسپتال چلنے کو تیار نہیں تھا، کہہ رہے تھے کے مشتعل لوگ گاڑی جلادینگے۔ سلیم کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ صابر نے بتایا کہ اگلے سال سلیم کی شادی کرانے کا سوچ رہے تھے۔ سلیم ہماری والدہ والد اور ایک بھائی کا کفیل تھا۔ دوسرے بھائیوں کی ذمہ داریاں زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری اس پر تھی۔ انٹر پاس سلیم کے ایف سی میں ائر کنڈیشن ٹیکنیشن تھے۔ وہ سات سال سے کےایف سی منسلک تھے اور پانچ دن پہلے ہی انہیں ملازمت پر مستقل کیے جانے کا خط ملا تھا۔ غیر ملکی ریسٹورنٹ کی گلشن اقبال برانچ میں ائر کنڈیشنر کا کمپریسر خراب ہوگیا تھا جس کو درست کرنے کے لیے وہ وہاں گیا تھا۔ سلیم کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے سات لوگوں کو باہر نکالا مگر خود نہ نکل سکا۔ عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ انہیں شوگراور دل کا عارضہ ہے اور ہر ہفتے ڈاکٹر سے معائنہ کرواتے ہیں اور ایک مہینے میں دو ہزار روپے کی دوائیاں استعمال کرتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اب آپ نے کیا سوچا ہے تو انہوں نے کہا کہ موت برحق ہے مگر یہ غلط ہوا ہے اس میں انسانی زندگیاں ضائع ہوئیں۔ سندھ حکومت نے’ کے ایف سی‘ میں جل کر ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے تین تین لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے مگر متاثرین کے ورثا اس سے لاعلم ہیں۔ سلیم کے بھائی صابر نے بتایا کہ انہوں نے بھی ٹی وی پر اس کا اعلان سنا ہے مگر حکومت نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ آفتاب کے بھائی شمعون بھی کہتے ہیں کہ ان سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
گزشتہ سال آٹھ اگست کو مدرسہ بنوری ٹاون کے باہر بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے دس افراد کے لواحقین کو گزشتہ ماہ کی چھبیس تاریخ کو معاوضہ کے چیک ملے ہیں۔ کے ایف سی میں چھ افراد کی ہلاکت کا گلشن پولیس نے ابھی تک مقدمہ درج نہیں کیا ہے۔ اے ایس آئی ضیا کا کہنا ہے کہ کارروائی چل رہی ہے اور مقدمہ درج ہوجائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||