موبائل فون اور کراچی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میں بس کے انتظار میں کھڑا تھا کہ کسی شخص نے میری پشت پر پستول رکھ کر کہا کہ موبائل فون فوراً اس کے حوالے کردوں میں نے اچھے بچوں کی طرح حکم تسلیم کرتے ہوئے فون اس کے حوالے کردیا-‘ کراچی میں سورج ڈھلتے ہی سیاہ رنگ کی موٹر سائیکلوں پر سوار نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نکل آتی ہیں جو لوگوں سے موبائل چھین لیتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر لوگوں نے سڑک یا ویران جگہ پر موبائل پر بات کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ اب تو موبائل پر جیسے گھنٹی بجتی ہے لوگ سی ایل آئی پر نمبر دیکھنے کے بجائے آس پاس دیکھنا شروع کردیتے ہیں کہ کہیں کوئی نوسرباز تو نہیں۔ انچولی میں متاثر ہونے والے طالب علم محمد سفیر سے جب میں نے پوچھا کہ آپ نے مزاحمت کیوں نہیں کی، تو انہوں نے کہا کہ ہتھیار کے سامنے ہر کوئی بے بس ہے۔ اور پانچ یا چھ ہزار کی چیز کے لیے کون اپنی زندگی خطرے میں ڈالےگا۔ مگر محمد سفیر کے برعکس پی ٹی وی کی نیوز کاسٹر شیریں سومرو نے ان مسلح لوگوں سے مزاحمت کی جس میں ان کو چوٹیں آئیں اورکپڑے بھی پھٹ گئے۔ شیریں سومرو کا کہنا ہے کہ ان کےموبائل کو خریدے ہوئے ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا کہ یونیورسٹی روڈ پر موٹر سائیکل سوارں نے انہیں موبائل سے محروم کردیا۔ مزاحمت کرنے پر مجھے مارا پیٹا گیا لیکن زخمی ہونے کے باوجود بیس منٹ تک رکشا میں میں نے ان کا پیچھا کیا مگر وہ فرار ہوگئے۔
سڑکوں کے علاوہ گاڑی ڈرائیو کرنے والے بھی موبائل فون سے چھینے جاتے ہیں۔ آدم ملک بھی اپنی گاڑی میں تھے کہ سگنل پر گاڑی روکتے ہی موٹر سائیکل سوار ان سے موبائل چھین لیےگئے اور وہ دیکھتے ہی رہ گے۔ دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ بہت کم لوگ ہی موبائل کی چوری کی رپورٹ درج کرواتے ہیں۔ جس سے پولیس پر عدم اعتماد ظاہر ہے۔ شیریں سومرو کا کہنا ہے کہ پولیس بھی ان کارروایوں میں ملوث ہے۔ ان کو سب معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے ان کو بتانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی طرح محمد سفیر بھی کہتے ہیں کہ چند ہزار روپوں کے لیے کون پولیس کے چکر لگائے۔ رپورٹ نے ہونے کی وجہ سے روزانہ چھینے جانے والے موبائل فونوں کے مکمل اعداد و شمار کسی کے پاس نہیں ہیں۔ تاہم سٹیزن پولیس لیزان کمیٹی کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں 2319 موبائل چھیننے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جن میں سب سے زائد واقعات گلشن اقبال، کلفٹن، جمشید کواٹرز اور صدر میں پیش آئے۔ سی پی ایل سی کے چیئرمین شریف الدین میمن کا کہنا ہے کہ ان کے پاس چالیس سے پچاس فیصد واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ لوگوں میں شعور کی کمی کی وجہ سے موبائیل چھیننے کے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ ڈی آئی جی آپریشن مشتاق شاہ کا کہنا ہے کہ پولیس اسٹریٹ کرائم روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ شہر میں موٹر سائیکلوں پر سوار اہلکار گشت کرتے ہیں۔ اب اگر موبائل چھن جائے تو ایمرجنسی نمبر 15اطلاع رپورٹ درج کروائی جا سکتی ہے۔ ان نے کہا کہ گاڑی چلاتے ہوئے موبائل استعمال کرنے پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائیگا۔ موبائل فون چھیننےکی بڑھتی ہوئی وارداتوں کو روکنے کے لیے سی پی ایل سی نے ایک میکنزم بنایا ہے۔ شریف میمن کے مطابق ہم نے لوگوں سے کہا ہے کہ جیسے ہی موبائل چھن جائے وہ اپنے فون سیٹ کا آئی ایم ای آئی نمبر سی پی ایل سی کو دیں۔ ہم اس سیٹ کو سیلولر کمپنی کی مدد سے ناکارہ بنادینگے۔
چھینے گئے موبائیل آخر کہاں جا تے ہیں؟ سی پی ایل سی کے چیئرمین شریف میمن کا کہنا ہے کہ یہ سیٹ مقامی الیکٹرانکس مارکیٹ میں بیچے جاتے ہیں۔ استعمال شدہ موبائل فون کی خرید و فروخت ایک اچھا بزنس ہےکیونکہ نئے موبائل سیٹ پر شرح منافع کم ہے یعنی ایک سیٹ پر پچاس سے سو روپے منافع ہوتا ہے جبکہ استعمال شدہ سیٹ پر دکاندار کو پانچ سو سے ایک ہزار تک مل جاتے ہیں۔ کراچی الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر وحید میمن بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ سیٹ مارکیٹ میں بیچے جا تے ہیں مگر ہر دکاندار اس میں ملوث نہیں ہے۔ چھینے گئے موبائل فون برآمد کرنے کے لیے کچھ روز قبل پولیسں نے چھاپہ مارا تھا۔ جس پر تاجر مشتعل ہوگئے تھے۔ اور کراچی الیکٹرانک مارکیٹ میں ہڑتال ہوگئی تھی۔ کراچی الیکٹرانک ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر وحید میمن بتاتے ہیں کہ ہم پولیسں کارروائی کے خلاف نہیں ہیں مگر پولیس کا طریقہ غلط تھا۔ پولیس ہمیں آگاہ کرتی کہ ہمارے ممبر فلاں ڈیلر چھینےگئے موبائل فون بیچ رہے ہیں۔ تو ہم خود اس کو پکڑ کر قانون کے حوالے کریں گے۔ اس کا سوشل بائیکاٹ کریں گے۔ کیا اس نظام سے موبائل فون چھیننے کے واقعات میں کمی ہو سکتی ہے؟ شریف میمن بتاتے ہیں کہ یہ میکنزم صرف کراچی تک محدود ہے۔ اگر کراچی سے چھینا گیا موبائل دوسرے شہر میں بیچا جائے گا تو کوئی پکڑ نہیں ہوسکتی۔ موبائل سیٹ کی چوری سے لوگوں کوصرف مالی نقصان ہی نہیں ہوتا بلکہ ان کے وہ اپنے رابطوں سے بھی محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ سیٹ میں ان کے پیاروں، دوستوں اور عزیزوں کے نمبر اور رابطے بھی درج ہوتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||