نیٹ کیفیز، بند کیبن ہٹانے کاحکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت سندھ نے کراچی سمیت سندھ کے تمام شہروں میں انٹرنیٹ کیفیز پر سختی کرنے کا فیصلہ کیا ہے- ان انٹرنیٹ کیفیز کی چیکنگ کا اختیار پولیس کودیاگیا ہے- پیر کے روز ایک اجلاس کی صدارت کے بعد صوبائی وزیر داخلہ عبدالرؤف صدیقی نے انٹرنیٹ کیفیز مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر کیفیز میں بند کیبن ہٹادیں- زمین سے ساڑھےچار فوٹ تک پارٹیشن کی اجازت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پارٹیشن اوپر سے کھلا ہونا چاہئے- انہوں نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ وہ ایک ہفتے بعد اپنے اپنےعلاقے کے کیفیز چیک کریں اور جو مالکان اس ہدایت پر عمل نہ کر رہے ہوں ان کے خلاف کیفے سیل کرنے سمیت سخت کارروائی کی جائے- سرکاری طور پر جاری کئے گئےبیان میں وزیر داخلہ نے کہا کہ والدین اور بزرگوں سے یہ شکایات مل رہی تھیں کہ انٹرنیٹ کیفیز میں مکمل طور پربند کیبنوں میں کیمرہ کے ذریعے ویڈیو بنائی جاتی ہیں جو غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے- صوبائی وزیر نے کہا کہ انٹرنیٹ کا تعمیری اور مثبت استعمال نوجوانوں کے لئے علم کا ذریعہ بن سکتا ہے- یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد اور راولپنڈی میں بعض جوڑوں کی حرکتیں خفیہ طور پر مووی کیمرہ کے ذریعے ریکارڈ کی گئی تھیں اور بعد میں ان کی سی ڈیز بھی جاری کی گئیں تھیں- اس طرح کی دیگر شکایات کے بعد سندھ کے اندر حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے- کراچی میں صدر کے علاقے کے ایک انٹرنیٹ کیفے مالک محمود ہارون نے اس فیصلہ کو درست قرار دیا انہوں نے کہا کہ بند کیبنوں کی وجہ سے شکایات بھی آتی ہیں اور بچوں اور نوجوانوں کے بگاڑ کا موقعہ پیدا ہوتا ہے- محمود ہارون کا کیفے کھلے پارٹیشن والا ہے ۔ ایک اور کیفےکے مالک شیراز کا کہنا ہے کہ انہوں نے کیبن گاہکوں کے مطالبے پر لگائے ہیں- نیٹ پر پرائیویسی ہونی چاہئے کیونکہ خواتین بھی کیفیز میں نیٹ استعمال کرنےآتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام کیفیز میں کھلے پارٹیشن پر عمل ہوا تو اس سےکاروبار متاثر نہیں ہوگا- کھارادر میں ایک کیفے علاقے کے مالک عدنان کا کہنا ہے کہ نوجوان اپنی سی ڈیز لاتے ہیں اور کیفیز کے کمپیوٹروں پر چلاتے ہیں- اس سے کیفے مالکان کا کوئی تعلق نہیں ہے- یاد رہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کیفے کھولنے کے لئے کسی لائسنس کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||