| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل میں انٹرنیٹ کیفے کا رحجان
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تیس برسوں کی طویل جنگ سے شہری ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ امن وامان کا خطرہ تو انتظامی مسئلہ ہے ہی، بجلی اور پانی جیسی ضروریات بھی تسلسل سے دستیاب نہیں۔ لیکن ان مسائل کے باوجود شہر میں جدید انٹرنیٹ کیفے کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے۔ کابل میں ٹیلیفون اور بجلی کے سہولیات غیرتسلی بخش ہونے کے باوجود ہر بڑے بازار یا علاقے میں میں ایک عدد انٹرنیٹ کیفے موجود ضرور ہیں۔ وائرلیس کا زمانہ ہے اور انٹرنیٹ اور موبائل فون کو ہر کوئی ضروری سمجھتا ہے۔ چھ ماہ یا سال پہلے کے دوران ان سہولتوں کے استعمال میں اضافے سے ان کی قیمتوں میں بھی زبردست کمی آرہی ہے۔ شہر کے کرتہ پروان علاقہ میں چار ماہ پہلے غلام فاروق نے بھی پہلا کیفے کھولا اور اب ان کے بقول اس کا گزارہ اچھا ہوجاتا ہے۔
’لوگوں کی ضرورت اور اپنے فائدے کے لئے کیفے شروع کیا۔ زیادہ لوگوں کی اس کی سوجھ بوجھ نہیں اس لئے ابھی کم لوگ استعمال کر رہے ہیں۔‘ اس نے بتایا کہ دن میں بیس تیس افراد اس کا کیفے استعمال کرتے ہیں۔ اُس وقت بھی کیفے میں کئی نوجوان بیٹھے تھے۔ ان میں کچھ عرصہ قبل پشاور سے لوٹنے والاا احمد نعیم بھی شامل تھا۔ اس سے پوچھا وہ اس سہولت کا استعمال کس لئے کر رہا ہے تو اس کا کہنا تھا کہ وہ ای میل دیکھنے آیا ہے۔ ’میرے پشاور کے دوست اور انگلینڈ میں چچا ای میل بھیجتے رہتے ہیں۔‘ اس نے بتایا کہ مہنگا ہونے کی وجہ سے وہ صرف ہفتے میں دو تین مرتبہ ہی ایسا کر پاتا ہے۔ ’انٹر نیٹ کے نرخ میں مزید کمی ہونے چاہیے ایک طالب علم کیسے ساٹھ روپے گھنٹہ دے سکتا ہے۔‘ ان کیفیز کی وجہ سے بڑی تعداد میں نوجوانوں میں اسے سیکھنے اور استعمال کرنے کا شوق بڑھا ہے۔ عبدالقیوم پہلی مرتبہ کیفے آیا اور ایک دوست کی مدد سے ای میل اکاونٹ کھول رہا تھا۔ ’میں مزار شریف سے کابل پڑھنے آیا ہوں اور یہاں اس کے بارے میں سنا تو دوست کی مدد سے سیکھ رہا ہوں۔ یہ زبردست اچھی چیز ہے۔‘ قریب میں ہی کمپوٹر سیکھانے کا ایک چھوٹا سا نجی مرکز بھی تھا۔ وہاں کے ایک استاد احمد فرہاد عزیزی سے پوچھا کہ لوگ اب کمپوٹر کو کتنا ضروری سمجھتے ہیں تو اس کا جواب تھا نوجوان اس وقت انگریزی اور کمپوٹر کی تعلیم پر ہی زیادہ توجو دے رہے ہیں کیونکہ اس وقت بڑی تعداد میں افغانستان میں موجود غیرسرکاری تنظیموں میں نوکریوں کے مواقع ہیں۔ آئی ٹی کے فروغ کے لیے اس کی تجویز تھی کہ سرکاری سطح پر کابل میں ایک کمپیوٹر کی تربیت کا بڑا مرکز کھلنا چاہیے۔ انٹرنیٹ کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغان نوجوانوں کو بھی اس بات کا پورا احساس ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کر کے ہی وہ اپنی معاشی پسماندگی دور کر سکتے ہیں اور دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکتے ہیں۔ ان کے قریب یہی ٹیکنالوجی ان کے مستقبل کو روشن بنا سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||