انٹرنیٹ کے شوقین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ کا جال بڑے شہروں سے ہوتا ہوا اب پنجاب کے دوردراز اضلاع میں بھی پہنچ چکا ہے۔ اٹک جا کر معلوم ہوا کہ چند لاکھ کی آبادی والے اس شہر میں تیس سے پچاس کے درمیان انٹرنیٹ کیفے ہیں جہاں بعض میں ایک روز تقریباً ایک سو کے قریب افراد اپنا وقت گزارتے ہیں۔ اٹک میں انٹرنیٹ کیفوں میں مختلف افراد سے معلوم ہوا کہ اس کے فروغ میں لوگوں میں موسیقی سننے، فلم بینی اور بیرون ملک دوست بنانے کے شوق کا اہم کردار ہے۔ اٹک میں زیادہ تر لوگ انٹرنیٹ کیفوں میں اپنی پسند کے گانے لگا کر چیٹنگ کرتے ہیں یا فلم دیکھتے ہیں۔ ایک انٹرنیٹ کیفے کے مالک ظفر اقبال نے بتایا کہ اٹک میں پہلا کیفے انہوں نے انیس سو ننانوے میں شروع کیا تھا اور اب شہر میں تیس سے زیادہ کیفے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ کیفے کا رخ کرنے والے زیادہ تر فوجی اور طالب علم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ زیادہ تر فلمیں دیکھنے اور گانے سننے کے لیے انٹرنیٹ کیفے پر آتے ہیں۔ ان کی بات کی تصدیق انٹرنیٹ کیفے کے کیبن سے اٹھنے والے گانوں کی آواز سے ہو رہی تھی۔
اتوار کی دوپہر کو کیفے میں صرف فوجی ہی نظر آ رہے تھے جو اپنے بالوں کے مخصوص انداز سے پہچانے جا رہے تھے۔ ملینیم انٹرنیٹ کیفے میں شمشاد حسین نے بتایا کہ یہ کیفے تین سال قبل شروع ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹک میں پچاس کے قریب کیفے ہیں۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ زیادہ تر لوگ چیٹنگ کرتے ہیں اور موسیقی سنتے ہیں۔ شمشاد حسین کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے فوائد سے زیادہ نقصانات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ پر چیٹ کرنے سے لوگوں کو جھوٹ بولنے کی عادت پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ بول کر تعلقات بنانے یا معلومات حاصل کرنے سے لوگوں کا اخلاق خراب ہو رہا ہے۔ کیفے میں موجود ایک فوجی عرفان عزیز نے بتایا کہ وہ سرگودھا میں اپنی والدہ اور بھائی سے چیٹنگ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے وقت اچھا کٹ جاتا ہے۔ کیفے میں موجود ایک اور فوجی امجد نے بتایا کہ وہ اتوار کو وقت گزارنے انٹرنیٹ کیفے میں آتے ہیں۔ ظفر اقبال کا کہنا تھا لوگوں میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے ابھی انٹرنیٹ کا استعمال موسیقی تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگ ویب سرچ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ شروع میں انٹرنیٹ کا غلط استعمال بھی ہوا لیکن اب طالبِ علم آہستہ آہستہ تعلیمی مقاصد کے لیے اس سہولت کو استعمال کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||