نیٹ بلیک میل: کیا پولیس اقدامات کافی ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی جی پولیس پنجاب نے گزشتہ ماہ ایک پریس کانفرنس میں اپنی ذاتی صوابدید کو استعمال کرتے ہوئے صوبے بھر میں نیٹ کیفے میں لکڑی اور ہارڈ بورڈ کے کیبن بنانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بعد ازاں اس پابندی کا اطلاق ریستورانوں پر بھی کر دیا گیا۔ سرحد اسمبلی نے بھی ایک قانون پاس کیا ہے جس کے مطابق لکڑی کے کیبن بنانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ نیٹ کیفے بنانےکا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کی ایک ممکنہ وجہ وہ سی ڈی ہو سکتی ہے جو آج کل مارکیٹ میں نیٹ کیفے کے نام سے دھڑا دھڑ بک رہی ہے۔ ابتداء میں یہ سی ڈی پانچ ہزار روپے میں فروخت ہوئی پھر پانچ سو اور اب کہیں سو اور کہیں پچاس روپے میں بک رہی ہے۔ اس سی ڈی میں چند لوگوں کی جنسی اور نیم جنسی حرکات کی ریکارڈنگ ہے جو ایک نیٹ کیفے کے کیبن میں پوشیدہ کیمرے کے ذریعے کی گئی ہے۔ یہ تمام ریکارڈنگ گزشتہ دو برس کے دوران کی گئی ہے۔ ایک پاکستانی اخبار کے کالم نویس نے لکھا ’ کیفے کی انتظامیہ نوجوانوں کی حرکات ریکارڈ کر لیتی اور بعد ازاں ان جوڑوں کو یہ فلم دکھائی جاتی اور انہیں بلیک میل کیا جاتا۔۔۔ اس سکینڈل کی شکار تین لڑکیوں نے خود کشی کر لی، ایک کو والد نے قتل کر دیا، دو کو طلاق ہو گئی جبکہ لڑکے گھروں سے بھاگ گئے۔‘
مذکورہ نیٹ کیفے دسمبر سن 2000 میں راولپنڈی کی مشہور کمرشل مارکیٹ میں کرائے پر حاصل کردہ ایک دکان میں قائم کیا گیا تھا۔ جنوری 2004 میں پولیس نے چھاپہ مارنے کے بعد اس نیٹ کیفے کو بند کر دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق نیٹ کیفے کے مالک وقار کیانی نے دسمبر 2000 میں شفیع پلازہ راولپنڈی کی بیسمینٹ میں ایک دکان کرائے پر حاصل کی اور وہاں پر’ کے بی‘ یعنی کیانی برادرز کے نام سے ایک نیٹ کیفے کھولا جس میں لکڑی کے کیبن بنائے گئے۔ مبینہ طور پر نیٹ کیفے کے ایک کیبن میں ایک چھوٹا ویب کیم نصب کیا گیا۔ یہ کب اور کیوں نصب ہوا اس کے بارے میں مختلف آراء ہیں مثلاً یہ کہ کیمرہ کیفے کے ملازمین نے نصب کیا اور مالک کو بعد میں علم ہوا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کیمرہ کمپیوٹر کے پرزوں کی چوری کی روک تھام کے لئے نصب کیا گیا تھا وغیرہ وغیرہ۔ وجہ جو بھی ہو لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کیمرے سے فلمیں بنائی گئیں۔ ان فلموں کے ذریعے ان جوڑوں کو بلیک میل کیا جاتا رہا جو کیفے میں آتے تھے۔
ان سی ڈیز میں زیادہ تعداد نوجوان جوڑوں کی ہے جبکہ کچھ بڑی عمر کے اور شادی شدہ افراد بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تھانہ نیو ٹاؤن راولپنڈی نے 27 جنوری 2004 کو رات کے وقت شفیع پلازہ کی بیسمنٹ میں واقع کے بی نیٹ کیفے پر چھاپہ مارا اور بعض افراد کو گرفتار کرنے کے علاوہ نیٹ کیفے میں موجود متعدد کمپیوٹر اور سی ڈیز کو قبضے میں لے لیا تھا البتہ ایف آئی آر میں کہیں بھی مالک کا ذکر نہیں پایا جاتا۔ اس واقعے کے بعد علما و مشائخ کے ایک وفد نے ایس ایس پی راولپنڈی مروت علی شاہ سے ملاقات کی اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے نیٹ کیفیز کا انسداد کیا جائے ورنہ ڈنڈا مہم چلائی جائے گی۔ ایس ایس پی راولپنڈی مروت علی شاہ نے بھی انہیں یقین دہانی کرائی کہ مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ آئی جی پنجاب کی جانب سے نیٹ کیفے میں لکڑی اور ہارڈ بورڈ کے کیبن بنانے پر پابندی واحد قدم ہے جو پنجاب حکومت کی طرف سے اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے اٹھایا گیا مگر ابھی بھی متعدد نیٹ کیفے ایسے ہیں جن میں قد آور لکڑی اور ہارڈ بورڈ کے کیبن موجود ہیں اور ان میں سے چار عین اسی مارکیٹ میں واقع ہیں جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||