BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 December, 2003, 02:44 GMT 07:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فحش سائٹس بلاک کرنے کا معاہدہ

پاکستان میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد فحش ویب سائٹس پر جاتے ہیں
پاکستان میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد فحش ویب سائٹس پر جاتے ہیں

پاکستان نے انٹر نیٹ پر دستیاب فحش یا غیر اخلاقی ویب سائٹس تک رسائی کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی کمپنی سے معاہدہ کر لیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن لیمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے بین الاقوامی انٹر نیٹ ٹرانزٹ پرووائڈر ’ فلیگ ٹیلی کام‘ سے معادہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے سائبر نظام پر موجود تمام غیر اخلاقی ویب سائٹس کو بلاک کر دے۔

دس ماہ قبل انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر کی ہدایت پر پی ٹی سی ایل نے اپنے انٹر نیٹ ایکسچینج کے ذریعے مقامی سطح پر قابل اعتراض ویب سائٹ کو بلاک کرنا شروع کیا تھا۔

فروری دو ہزار تین سے اب تک تین ہزار معروف غیر اخلاقی سائٹس کو بلاک کیا جا چکا ہے۔ پاکستان میں دس لاکھ سے زیادہ افراد باقاعدگی سے انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں اور پی ٹی سی ایل کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ان میں نصف سے زیادہ لوگ فحش یا غیر اخلاقی ویب سائٹس پر جاتے تھے۔

اطلاعات کے مطابق اب بھی انٹر نیٹ استعمال کرنے والے ایک چوتھائی سے زیادہ افراد ایسی ویب سائٹس پر جانے کی کوشش کرتے ہیں جن کو بلاک کیا جا چکا ہے۔

تین ہزار سے زیادہ قابل اعتراض ویب سائٹس کو پاکستان میں بلاک کرنے کے باوجود اب بھی ہزاروں ایسی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں قابل اعتراض مواد ، تصاویر یا فلمیں دستیاب ہیں۔

مغربی ممالک میں ہر روز ایسی درجنوں نئی ویب سائٹس منظر عام پر آ جاتی ہیں جہاں فحش یا غیر اخلاقی مواد، مفت یا ماہانہ فیس کے عوض دستیاب ہوتا ہے۔

پاکستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد گھریلو کمپیوٹرز یا انٹر نیٹ کیفے کے ذریعے ایسی ویب سائٹس کو وزٹ کرتی ہے۔ پی ٹی سی ایل کو توقع ہے کہ نئے معاہدے کے بعد تمام اہم اور قابل اعتراض ویب سائٹس کو مکمل طور پر بلاک کیا جاسکے گا۔

تاہم پاکستان کے بڑے شہروں میں انٹر نیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ غیر اخلاقی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے اس تکنیکی اقدام سے ملک میں انٹر نیٹ سروس بری طرح متاثر ہو گی اور انٹر نیٹ براوزنگ کی رفتار بے حد سست ہو جائے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد