پاکستان میں ریچھ کی لڑائی پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبے پنجاب میں ریچھ اور کتوں کی لڑائیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ پابندی اس وقت لگائی جب جانوروں کی حفاظت کے عالمی ادارے کے ایک کارکن نے یہ لڑائی دیکھی اوراس کے خلاف کارروائی کی۔ یہ کھیل پنجاب میں کافی مقبول ہے اور لڑائی میں جانوروں پر شرط لگاتے ہیں۔ اس لڑائی میں بغیر دانت والابندھاہوا ریچھ، دو کتوں سے لڑتا ہے۔ تین منٹ کی اس لڑائی میں بےچارہ ریچھ اکثر بری طرح زخمی ہوتا ہے۔لوگ کتوں پر روپیہ لگاتے ہیں اور ہارنے والے کو یہ رقم کتے کے مالک کو دینی ہوتی ہے۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق یہ کھیل بڑے زمین داروں کی تفریح کے باعث منقد ہوتا ہے۔زمین دار اس لڑائی پر کافی پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ یہ کھیل نومبر سے اپریل کے درمیان ہوتا ہے۔ جانوروں کی حفاظت کے عالمی ادارے کے وکٹر واٹکنز کے کہ مطابق ضلح جھنگ کے علاقے میں یہ لڑائی بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ان کاکہنا ہےکہ ریچھ اور کتے کی اس لڑائی کے خاتمے کے لیے اقدام کیے جارہے ہیں۔ وٹکر واٹکنز نے پاکستانی حکومت کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے پاکستان کے اس اقدام کی داد دی ہے۔ صدر مشرف نے 2001میں ریچھ اور کتے کے اس ظالمانہ کھیل پر پابندی لگانے کے لیے ایک بل پاس کیا تھا۔ صدر مشرف کی ہدایت پر ان ریچھوں کو سرحد کے خند پارک منتقل کرنے کا حکم جاری ہوا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||