مرادیں اور منتیں مانگنے کا پُل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کو ویسے تو روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ مگر یہاں رہنے والوں کے اندر بھی مایوسیوں اور ناکامیوں کا اندھیرا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صنعتی اور زیادہ شرح خواندگی والے شہر میں بھی کئی لوگ تواہم پرستی کا شکار ہیں۔ دل کی مردایں پوری کرنے کے لیے کیا کیا جتن کرتے ہیں۔ شام ڈھلتے ہی شہر کے قدیمی پل نیٹِو جیٹی (native jetty) پر جسے عرفِ عام میں نیٹی جیٹی پکارا جاتا ہے، لوگوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ جن میں بچوں سے لے کر بوڑھوں تک شامل ہیں۔ پل کے فٹ پاتھ پر پچیس سے زیادہ لوگوں نے ڈیرہ لگایا ہوا ہے جو پانچ سے دس روپے میں گندھا ہوا آٹا بیچتے ہیں۔ یہ آٹا پلاسٹک کی پلیٹوں میں رکھا ہوتا ہے۔ یہاں آنے والے اکثر لوگ یہ پلیٹیں لے کر آٹا پل کے نیچےگزرنے والے پانی میں پھینک دیتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ آٹا مچھلی کھائےگی اور ان کے دل کی مراد پوری ہوگی۔ انگریزوں کی تعمیر کردہ نیٹِو جیٹی یعنی مقامی باشندوں کی جیٹی کی ایک اور پہچان لوگوں کی پر اسرار حالات میں موت کے حوالے سے بھی ہے۔ اور ایک ماہ میں خودکشی کے دو تین واقعات اس پل پر پیش آتے ہیں۔ لیکن یہ پل لوگوں کی امیدیں پوری کرنے کے لیے بھی ایک اہم مقام بن گیا ہے۔
ایک طالب علم ارشاد جو مچھلیوں کے لیے پانی میں آٹا پھینک رہا تھا اس نے بتایا کہ اس پل پر ہوا خوری کے لیے مارٹن کوارٹر سے آیا ہے۔ اس نے کوئی منت نہیں مانگی البتہ اس کے دوست امتحانوں کے دنوں میں یہاں آتے ہیں اور کامیابی کی منت مانگتے ہیں۔ کیا کسی کی مراد پوری ہوئی ہے؟ ارشاد نے بتایا کہ ان کے ایک رشتے دار سرکاری افسر ہیں۔ ان کی اولاد نہیں تھی۔ وہ ہر جمعرات کو یہاں آتے تھے۔ تین سال قبل ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ نیٹِو جیٹی پر منت مانگنے کا یہ سلسلہ کب سے جاری ہے، کسی کو نہیں معلوم۔ میانوالی کے رہنے والے کمال بتاتے ہیں کہ وہ بہت عرصے سے یہاں آٹا بیچ رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ رکشہ چلاتے تھے۔ مگر پیٹرول مہنگا ہوگیا اور انہوں نے آٹا فروخت کرنا شروع کر دیا۔ اب وہ روزانہ تقریباً ڈیڑھ سو روپے کما لیتے ہیں۔ وہ روزانہ تین کلو آٹا بیچتے ہیں۔ جبکہ مخصوص راتوں کو یہ مقدار دگنی ہو جاتی ہے۔
ایک باریش پتھارے والے نے بتایا کہ وہ گزشتہ آٹھ سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔ شب برات کو یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ ان کے پاس ایک سفید پرچی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عریضہ ہے جس پر جو بھی مراد ہو تحریر کی جاتی ہے۔ پھر اس کو آٹے میں گوندھ کر درود شریف پڑھنے کے بعد سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ لیاری سے آنے والے ایک جوڑے میں سے محمود نے بتایا کہ وہ یہاں ہوا خوری کے لیے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ یہاں نوکری، اولاد اور شادی کی منتیں مانگنے آتے ہیں۔ اور منت پوری ہونے پر ایک کلو آٹا یا باجرہ یا گھر سے اناج لے کر آتے ہیں اور پانی میں بہا دیتے ہیں۔ ہر جمعرات اور پیر کی رات کو بڑی بھیڑ ہوتی ہے۔ گاڑیوں والے بھی یہاں آٹا بہاتے نظر آتے ہیں۔ یہاں آنے والی خواتین نے عموماً نقاب اوڑھا ہوتا ہے۔ ایک خاتون ہاتھ باندھے دعا مانگ رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کوئی منت نہیں مانگ رہیں بلکہ یونہی دعا مانگ رہی ہیں۔ جب آٹا بہانے والے ایک شخص سے پوچھا گیا کہ وہ یہ دو روپے ایک غریب کو دے دیتے تو کیا اچھا نہ ہوتا تو اس نے ’نیکی کر دریا میں ڈال‘ والی مثال دی اور کہا کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ اس مقام پر کہ جہاں لوگ ہوا خوری کے علاوہ زندگی اور خوشیوں کی منتیں مانگنے آتے ہیں وہاں بعض مایوسی کے مارے افراد زندگی کا چراغ گل کرنے بھی آتے ہیں۔ اسی جگہ یہ عبارت بھی درج ہے کہ ’ کوڑا کرکٹ پھینکنا منع ہے‘ مگر لوگ بڑی تعداد میں تھیلیاں اور کچرا پھینکتے رہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس جگہ لوگ آٹا اور اناج بہاتے ہیں وہاں سے ہر تیس منٹ بعد لانچ گزرتی ہے جو جال کی مدد سے مچھلیاں پکڑتی ہے۔ یہ وہی مچھلی ہے جو آٹا کھانے کو آتی ہے اور خود شکار ہو جاتی ہے۔ اور غالباً یہ وہی مچھلی ہے جس سے لوگ دعاؤں کی توقع رکھتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||