BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 April, 2005, 13:30 GMT 18:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عورت، غیرت اور موت

ایشائی نژاد خواتین میں خود کشی
برطانیہ میں ایشائی نژاد خواتین میں خود کشی کی شرح زیادہ ہے۔
برطانیہ میں ایشائی نژاد خواتین جہاں ایک طرف مختلف شعبوں میں ترقی کر رہی ہیں وہیں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سولہ سے چوبیس سال کی ایشیائی نژاد خواتین میں خود کشی کی شرح قومی شرح کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ خودکشی کی ناکام کوشش کرنے والوں میں بھی ایشیائی خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

لندن میں واقع ایشیئن ومنز ریسورس سینٹر ایک ایسا خصوصی ادارہ ہے جو اب سے تقریباً پچیس سال پہلے برطانیہ میں ایشیائی خواتین کو درپیش مسائل کو سمجھنے اور ان خواتین کی مدد کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ ادارہ ایسی خواتین کو مدد اور حمایت فراہم کرتا ہے جو اپنی زندگی سے مایوس ہوتی نظر آتی ہیں۔ اس ادارے کی ڈائریکٹر سربجیت گینگر ایشیائی خواتین کے خود کشی جیسا قدم اٹھانے کی کئی وجوہات بتاتی ہیں۔

ہمارے گھروں میں عزت اور شرم جیسے خیالات بہت ہی اہم ہوتے ہیں اور عورتوں کو اکثر گھروں کی عزت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر حال ہی میں ہیشو یونس نامی ایک لڑکی کو اس کے باپ نے قتل کر دیا تھا۔ کئی بار اس سب کی وجہ سے عورتیں خود کو پھنسا ہوا محسوس کرتی ہیں۔‘

غیرت کے نام پر قتل اور زبردستی کی شادیاں بھی برطانیہ میں ایشیائی برادری کو در پیش مسائل میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بظاہر یہاں امیگریشن کے کچھ قوانین بھی ایسے ہیں جن کی وجہ سے جنوبی ایشیائی ممالک سے شادی کر کے برطانیہ آنے والی خواتین خود کو پھنسا ہوا محسوس کرتی ہیں۔ سُشیلا دیوا لندن میں مقیم ایک سماجی کارکن ہیں جنہوں نے ایسی ہی کچھ خواتین کے ساتھ کام کیا ہے۔

’جو لڑکیاں شادی کرکے یہاں آتی ہیں وہ سمجھتی ہیں کہ برطانیہ آ کر ان کی زندگی بہتر ہو جائے گی۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں انہیں نوکر کی طرح رکھا جاتا ہے اور کوئی اس کی حالت نہیں سمجھ پاتا۔ ان لڑکیوں کے شوہر بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے تو صرف اپنے والدین کو خوش کرنے کے لیے شادی کی ہوتی ہے۔‘

برطانیہ
خود کشی کی شرح برطانیہ میں پیدا ہونے والی واتین میں بھی زیادہ ہے۔

خود کشی کی شرح صرف ان خواتین میں ہی زیادہ نہیں ہے جو یہاں ایشیائی ممالک سے برطانیہ آتی ہیں بلکہ ایشیائی گھرانوں میں پیدا ہونے والی لڑکیاں بھی اس میں شامل ہیں۔ اکثر ماں باپ مغربی معاشرے میں بڑی ہونےوالی ان بچیوں کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں اور ان سے ایسی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جوحالات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ سربجیت گینگر کہتی ہیں:

’برطانیہ کی ایشیائی برادری میں کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی ضرورتوں اور نظریے کو سمجھ نہیں پاتے، اور ایشیائی خواتین کے ذہن میں یہ تضاد پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے والدین کو خوش کریں یا پھر اپنے پیشے پر توجہ دیں۔‘

ماہر نفسیات ڈاکٹر ہاشم رضا کہتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ خودکشی کا تعلق ذہنی مرض سے ہی ہو: ’یہ صرف ایک میڈیکل مسئلہ نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ ایک سماجی مسئلہ ہے۔ ایک بہت بڑا مسئلہ ہمارے سماج میں یہ بھی ہے کہ ہم سماجی مسئلوں کو طبی مسئلہ قرار دے کر ان کے علاج کی توقع رکھتے ہیں، جو کہ ناممکن ہے۔‘

ڈاکٹر ہاشم رضا کا خیال ہے کہ ایشیائی گھرانوں میں پیدا ہونے والی لڑکیان پڑھائی میں اور اپنے پیشوں میں تو کامیابی حاصل کر لیتی ہیں تاہم ان کی یہی کامیابی انہیں اپنے گھر والوں سے دور کر دیتی ہے۔ اور یہی ان خواتین کو ذہنی طور پر کمزور بنا دیتی ہیں۔

لندن میں ساؤتھ ہال
’اکثر ماں باپ مغربی معاشرے میں بڑی ہونےوالی ان بچیوں کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔‘

’لڑکیاں جیسے جیسے کامیاب ہوتی جا رہی ہیں، ویسے ویسے وہ اپنے گھرانے سے اور اپنے ماحول سے علیحدہ ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جذباتی مسائل بھی ہیں جیسے جب بچیاں اور بچے ایک خاص عمر میں آگے بڑھتے ہوئے اپنے جذباتی رشتے وابسطہ کرتے ہیں تو گھر والے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔‘

ایشیائی ممالک میں بھی خواتین میں خود کشی کی شرح مردوں کی نسبت زیادہ ہے، تو کیا ایشیائی ممالک سے یہاں آنے والے افراد اپنے ساتھ ان معاشروں کی خامیاں بھی لے آتے ہیں؟ ڈاکٹر رضا کہتے ہیں کہ ’نہ صرف یہ کہ وہ ان خامیوں کو اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں بلکہ انہیں وہ پچھلے تیس چالیس سال سے، بڑے فخر سے پرورش دیتے آئے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر یہ لوگ واپس پاکستان یا بھارت چلے جائیں، تو یہ دیکھیں گے کہ جس طرح کا برتاؤ یہ یہاں اپنے بچوں سے کر رہے ہیں وہ ان کے آبائی وطن میں بھی نہیں ہوتا۔ پاکستان یا بھارت کا معاشرہ تیس چالیس سال میں کہیں سے کہیں نکل گیا ہے، مگر یہ لوگ اب تک وہی پرانے اقدار سینے سے لگائے بھیٹھے ہیں۔‘

اس سارے مسئلے کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ برطانیہ میں حکام ثقافتی اور مذہبی جذبات کو ٹھیس نہ پہنچانے کی کوشش میں شاید اتنا آگے چلے جاتے ہیں کہ ایسی خواتین کی حفاظت کرنے کا اپنا فرض نبھانے میں ناکام رہتے ہیں۔ تاہم غیرت کے نام پر ہیشو یونس کے قتل کی تفتیش پولیس نے صرف ایک قتل کی واردات کے طور پر کی۔

ایسے مسائل پر قابو پانے میں پولیس اور حکام کے رویے میں تبدیلی ایک اچھی پیش رفت ہے لیکن یہ مسائل تب تک حل نہیں ہو پائیں گے جب تک برطانیہ میں ایشیائی برادری اپنی بچیوں کی طرف اپنے رویے کو نہیں بدلتی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد