خواتین حقوق مخالف دہشتگردی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کو حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی نے تین اپریل کو گوجرانوالہ میں مردوں اور عورتوں کے دوڑ میں اکٹھے شامل ہونے کے خلاف متحدہ مجلس عمل کے کارکنوں کے مبینہ حملے کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کی ہے۔ قرارداد میں کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں خواتین اور ان کے حقوق کے تحفظ میں رکاوٹ ڈالنے کو دہشتگردی قرار دیا گیا ہے۔ یہ قرارداد حکومتی رکن اسمبلی مہناز رفیع نے پیش کی۔اس سے قبل اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل اور حکومتی ارکان کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ہنگامہ آرائی کا آغاز اس وقت ہوا جب اجلاس شروع ہونے سے پہلے ایوان کی بزنس کمیٹی کے اجلاس میں متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد کی گوجرانوالہ کے واقعہ کے بارے شدید تلخ کلامی ہوئی۔ اس کے بعد حافظ حسین احمد نے ایوان میں گوجرانوالہ کے رکن قومی اسمبلی قاضی حمیداللہ کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے بارے میں بات کرنا شروع کی تو وزیر قانون نے ان کو بیچ میں روکا اور پھر سے دونوں میں تلخ کلامی ہوئی۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ مجلس عمل کے رکن حمیداللہ نے پولیس اور میراتھن کے شرکا پر حملہ کیا اور وہ دہشتگردی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ق
انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل ایسی میراتھن کو عوامی قوت کے ذریعے روکے گی۔ اس پر وزیر قانون نے کہا کہ حکومت بدمعاشی کا جواب بدمعاشی سے دے گی۔وزیر نے ایوان کو بتایا کہ متحدہ مجلس عمل کے رکن اسمبلی نے چھ سات سو افراد کے ساتھ اس سٹیڈیم پر حملہ کیا جہاں یہ میراتھن ہو رہی تھی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ متحدہ مجلس عمل کے کارکنوں نے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں جلائیں۔ وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ اس میراتھن کو روکنے کے لیے ملک کے قبائلی علاقوں سے افراد بلائے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے پینتیس ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جن کا تعلق قبائلی علاقے سے ہے۔انھوں نے ان افراد کے نام اور پتے بھی ایوان میں پڑھ کر سنائے۔ متحدہ مجسل عمل کے ارکان نے کہا کہ یہ افراد گوجرانوالہ کے ایک مدرسے کے طالبعلم تھے۔تاہم وزیر قانون نے کہا کہ ان افراد کی عمر تیس سال سے زیادہ تھی لہذا ان کا مدرسے کا طالبعلم ہونے کا دعویٰ جھوٹ ہے۔ وزیر قانون کی تقریر کے بعد مجلس عمل کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ مسلم لیگ نواز کے ارکان نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ ان کے واک آؤٹ کے بعد یہ قرارداد پیش کی گئی جس کی پیپلز پارٹی نے حمایت کی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے اپنی تقریر میں متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ملک میں تنگ نظری اور انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ مولیوں نے قائداعظم اور علامہ اقبال پر بھی کفر کے فتوے لگائے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت بھی اس سلسلے میں دوہری پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ اعتزاز نے کہا کہ ایک طرف تو حکومت امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اعتدال پسندی کے نعرے بلند کر رہی ہے اور دوسری طرف پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ شامل کرنے اور حدود قوانین پر دینی جماعتوں کے دباؤ پر پسپائی اختیار کر رہی ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ اپوزیشن پیپلز پارٹی نے کسی قرارداد میں حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران وزیر اعظم شوکت عزیز بھی موجود تھے۔ تین اپریل کو گوجرانوالہ میں متحدہ مجلس عمل کے کارکنوں کی طرف سے گوجرانوالہ میں منعقد کی جانے والی دوڑ کے دوران پولیس سے تصادم میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ مجلس عمل کا موقف ہے کہ ان دوڑوں میں خواتین کی شرکت غیر اسلامی ہے جبکہ حکومت خواتین کی شرکت کو ایک صحت مند معاشرے کی طرف ایک بڑھتا ہوا قدم قرار دے رہی ہے۔ وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بھی ایوان کو بتایا کہ مجلس عمل کے رکن اسمبلی گولی لگنے سے زخمی نہیں ہوئے بلکہ ان کو ایک شیل لگا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||