BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 April, 2005, 09:50 GMT 14:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوجرانوالہ: دوڑ روکنے پر جھگڑا

متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام جلوس (فائل فوٹو)
پولیس نے بیس سے زیادہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے(فائل فوٹو)
گوجرانوالہ میں منی میراتھن ریس کے خلاف متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام نکالے گئے جلوس کے پولیس سے تصادم میں ایک مقامی رکن قومی اسمبلی سمیت کم سے کم دس افراد زخمی ہوگئے۔

اس تصادم کے دوران متعدد گاڑیاں جلا دی گئیں جس کے بعد بازار بند ہوگئے اور پولیس نے بیس سے زیادہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

گوجرانوالہ میں اتوار کی صبح نو بجے حکومت کی طرف سے منی میراتھن ریس منعقد کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں خواتین نے بھی شریک ہونا تھا اور مجلس عمل اس کی مخالفت کررہی تھی۔

گوجرانوالہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس الطاف قمر کے مطابق ایک مقامی سکول سے طالبات کی دوڑ ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ مجلس عمل کے آٹھ سو مظاہرین نے جناح اسٹیڈیم پر حملہ کردیا جہاں طالبات نے پہنچنا تھا۔

پولیس افسر کے مطابق مجلس عمل کے کارکنوں نے اسٹیڈیم پر فائرنگ کی اور ہوائی فائر کیے اور وہاں کھڑی گیارہ کاروں اور چند موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی۔ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ پولیس نے جوابی کارروائی کی تو مظاہرین منتشر ہوگئے۔

تاہم متحدہ مجلس عمل کے گوجرانوالہ میں مقامی رہنما سعید کھوکھر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے پُر امن مظاہرین پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس سے مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی قاضی حمیداللہ اور ان کے بیٹے قاضی کفایت اللہ سمیت پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔

مجلس عمل کے رہنما کے مطابق پولیس نے آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے۔ ایم این اے قاضی حمید اللہ کے ہاتھ اور بازو پر گولیاں لگی ہیں اور وہ سہ پہر تک بے ہوشی کی حالت میں تھےجبکہ ان کے بیٹے کے مُنہ پر گولی لگی ہے اور مجلس عمل کے ترجمان کے مطابق انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے ان کے کارکن شدید زخمی ہیں اور سول لائنز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

سعید کھوکھر کا کہنا ہے کہ مجلس عمل کے قائدین نے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) عارف مشتاق سے کہا تھا کہ گوجرانوالہ میں مرد اور عورتوں کی مخلوط دوڑ نہ کروائیں اور اس ریس میں سے خواتین کو نکال لیں تو ہم منتشر ہوجائیں گے لیکن انہوں نے بات نہیں مانی اور مشتعل ہوکر ان کے بقول پُرامن جلوس پر فائرکھول دیا۔

ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس نے بہت محدود ہوائی فائرنگ کی اور ان کی اطلاع کے مطابق مقامی ایم این اے زخمی نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجلس عمل کے مظاہرین نے جی ٹی روڈ پر بھی ہنگامہ کیا اور شہر میں جگہ جگہ مظاہروں کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔پولیس کے مطابق چھ پولیس اہلکار بھی اس واقعہ میں زخمی ہوئے ہیں۔

مجلس عمل کے مظاہرین بازاروں میں چلے گئے اور وہاں دکانیں بند کردی گئیں۔ گوجرانوالہ میں اتوار کے بجائے جمعہ کے روز بازار بند ہوتے ہیں اور آج ہنگاموں کے باعث شہر کے مختلف بازار ریل بازار، کسیرا بازار اور صرافہ بازار بند کردیے گئے۔

متحدہ مجلس عمل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مجلس عمل منی میراتھن ریس کے خلاف ہے کیونکہ اس میں خواتین کی شرکت ہمارے مذہبی اقدار کے خلاف ہے اور کئی دنوں سے انتظامیہ سے ملاقاتیں کرکے مجلس عمل نے مخلوط دوڑ نہ کروانے کی تجویز دی تھی لیکن یہ بات نہیں مانی گئی۔

مجلس عمل کے مقامی رہنما کے مطابق اب تک پولیس مجلس عمل کے پچیس افراد کو گرفتار کرچکی ہے۔ دو سال پہلے مجلس عمل کے کارکنوں نے آج زخمی ہونے والے رکن قومی اسمبلی قاضی حمیداللہ کی سربراہی میں گوجرانوالہ میں چلنے والے ایک سرکس پر فحاشی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس پر حملہ کردیا تھا اور خاصی توڑ پھوڑ کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد