BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 April, 2005, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہنگائی کے خلاف ہڑتال، ایک ہلاک

ہڑتال
پولیس ایم ایم اے کے ایک کارکن پکڑ کر لے جا رہی ہے۔
پاکستان میں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی اپیل پر مہنگائی کے خلاف سنیچر کے روز ہڑتال بڑے شہروں میں خاصی مؤثر رہی جبکہ کچھ شہروں میں جزوی طور پر دکانیں کھلی رہیں اور ٹریفک معمول سے کم نظر آئی۔

جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ کے علاقے چوک اعظم میں متحدہ مجلس عمل یعنی ایم ایم اے کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں چار مظاہرین زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک ہسپتال میں جا کر ہلاک ہو گئے۔

ایم ایم اے کی ملک گیر ہڑتال کے سلسلے میں چوک اعظم میں بیسیوں مظاہرین رکن پنجاب اسمبلی چوہدری اصغر علی گجرکی قیادت میں اکٹھے تھے اور انہوں نے قریب سے گزرنے والی بین الاصوبائی شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک روک رکھی تھی۔

اصغر علی گجر چوک اعظم سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی میں ایم ایم اے کے پارلیمانی پارٹی کے سربراہ اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر ہیں۔

وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے ہڑتال کو ناکام جبکہ مجلس عمل نے اسے کامیاب قرار دینے کے دعوے کیے ہیں۔

مجلس عمل کے رہنما منور حسن کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہر لیہ میں پولیس نے فائرنگ کر کے ان کے آٹھ کارکنوں کو زخمی کردیا ہے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔ ان کے مطابق زخمیوں میں پنجاب اسمبلی کے رکن اصغر علی گجر بھی شامل ہیں لیکن وہ معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ کراچی سے رکن قومی اسمبلی لئیق احمد اور دو اراکین صوبائی اسمبلی یونس بارائی اور حمیداللہ خان کو امن عامہ کے قانوں ’ایم پی او‘ کے تحت ایک ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ بیسیوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان میں سے تاحال ایک سو چالیس کو مختلف عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے۔

مجلس عمل کے رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر سے ان کے چار ہزار کے لگ بھگ کارکن گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ کئی رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کیا گیا ہے اور کچھ کو تھانوں میں بلاکر بٹھادیا گیا ہے۔

شیخ رشید احمد نے گرفتاریوں کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا شکر ہے کہ مجلس عمل نے ’ملین یا بلین‘ لوگوں کی گرفتاری کا دعویٰ نہیں کیا کیونکہ ان کے بقول مجلس والے آج کل اس سے کم کی بات نہیں کرتے۔

منور حسن نے الزام لگایا کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے کارکن پولیس کی گاڑیوں میں سوار ہوکر مجلس عمل کے کارکنوں کی نشاندہی کر کے گرفتاریاں کرا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم نے ان کے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

متحدہ مجلس عمل نے حکومت کی مبینہ طور پر غلط پالیسیوں کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات اور کھانے پینے کی عام اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں عوام سے ’شٹر ڈاؤن‘ اور ’پہیہ جام‘ ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بڑے بازار بند ہیں اور ٹریفک بھی بہت کم ہے۔ دونوں صوبوں میں متحدہ مجلس عمل حکومت میں شامل ہے اور ہڑتال کو کامیاب کرنے کے لیے جہاں وزراء نے جلوسوں کی قیادت کی وہاں مبینہ صوبائی حکومتوں کے وسائل بھی طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔

پشاور اور نوشہرہ سمیت مختلف علاقوں میں مجلس عمل کے ڈنڈا بردار کارکن جلوسوں کی شکل میں بازاروں میں گشت کرتے بھی نظر آئے۔

اندروں سندھ کے حیدرآباد سمیت بیشتر شہروں میں جزوی طور پر ہڑتال کی گئی جبکہ میرپور خاص سمیت کچھ شہروں میں بازار مکمل طور پر کھلے ہیں۔

ملتان میں جزوی ہڑتال رہی اور ٹریفک بھی معمول کے مطابق چل رہی ہے جبکہ کچھ گرفتاریوں کی اطلاعات ملی ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی جزوی ہڑتال رہی اور ٹریفک بھی معمول سے کم رہی۔ وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے صحافیوں کے ایک گروپ کے ہمراہ صبح راولپنڈی کا دورہ کیا اور کچھ ایسے بازار دکھائے جن میں دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔

دونوں شہروں میں پولیس والے تاجروں کو دکانیں کھولنے کی صورت میں حفاظت کرنے کی یقین دہانیاں کراتے رہے اور وہ کئی دکانیں کھلوانے میں کامیاب بھی ہوئے۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار عدنان عادل کے مطابق پنجاب میں کاروبار جزوی طور پر بند رہا۔ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم تھی تاہم چلتی رہی۔

لاہور میں بڑے تجارتی مراکز جیسے شاہ عالم مارکیٹ، نیلا گنبد، مال روڈ اور برانڈرتھ روڈ وغیرہ بند رہے لیکن امیر رہائشی علاقوں کے بازاروں جیسے گلبرگ میں لبرٹی اور ڈیفنس وغیرہ کی دکانیں کُھلی رہیں۔ تاہم وہاں بھی کاروباری سرگرمی بہت کم دکھائی دی۔

لاہور میں ٹریفک چلتی رہی لیکن سڑکوں پر معمول سے بہت کم ٹرانسپورٹ دیکھنے میں آئی۔ شہر کی سڑکیں چُھٹی کے دن کا سماں پیش کررہی تھیں۔

لاہور میں ملتان روڈ پر صبح کے وقت جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ملتان روڈ پر رکاوٹیں کھڑی کر کے اسے بند کیا تو اُن کا پولیس سے تصادم ہوگیا۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے وحدت روڈ کو بھی رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا۔

مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور اور پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال سے جماعت اسلامی کے کئی کارکن زخمی ہوگئے اور کچھ کو حراست میں لے لیا گیا۔

جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق لاہور سے آج تین سو کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور درجنوں افردا پولیس کے لاٹھی چارج سے زخمی ہوئے۔ جماعت اسلامی کے مطابق پولیس کے اہلکار سید مودودی انسٹی ٹیوٹ میں گُھس گئے اور آٹھ غیر ملکی طلبا کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

کئی چھوٹے شہروں جیسے سرگودھا وغیرہ میں بیشتر کاروباری ادارے بند رہے۔ تاہم ملتان اور سیالکوٹ میں بیشتر کاروباری اور تجارتی ادارے کھلے رہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد