خواتین پھر ووٹ نہ ڈال سکیں گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اس سال بلدیاتی انتخابات منعقد ہونے ہیں جن کے لیے تیاریاں جاری ہیں لیکن صوبہ سرحد کے قدامت پسند علاقے دیر میں غیر سرکاری تنظیموں نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی علاقے کی خواتین بڑی تعداد میں ووٹ کے حق سے محروم رہیں گی۔ آٹھ لاکھ آبادی پر مشتمل صوبہ سرحد کا پہاڑی ضلع دیر دینی اعتبار سے قدامت پسند ثابت ہوا ہے۔ ماضی میں سیاسی جماعتیں آپس میں معاہدوں کے ذریعے ایک لاکھ پینتالیس ہزار رجسٹرڈ خواتین ووٹروں کو انتخابات میں اپنا حق استعمال کرنے سے محروم رکھتی رہی ہیں۔ اس مرتبہ ضلع میں نئے ووٹروں کا اندراج جب ہوا تو تقریبا چار ہزار مردوں کے مقابلے میں صرف پچھہتر خواتین نے اندراج کروایا ہے۔ اس سے حقوقِ انسانی کی تنظیموں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ دیر میں کام کر رہی خوئندو کور (بہنوں کا گھر) نامی ایک تنظیم کے ابریش پاشا کا اس کم تعداد میں خواتین کے اندراج کے بارے میں کہنا تھا کہ اس کی ایک وجہ خواتین کو تاخیر سے شناختی کارڈ جاری کرنا اور دوسرا ان کی عدم دلچسپی ہے۔ ابریش نے مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جو خواتین ضلعی یا تحصیل سطح پر منتخب بھی ہوئیں ان کو بولنے تک کا حق نہیں دیا جاتا تھا جس کی وجہ سے خواتین نے اس جانب توجہ دینا چھوڑ دیا ہے۔ ایک اور وجہ پردے دار خواتین کے لئے شناختی کارڈ بنوانا بھی بتائی جاتی ہے۔ دیر سے متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی احمد غفور کم اندراج کی ذمہ داری شناختی کارڈ جاری کرنے والے ادارے نادرا پر ڈالتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ خواتین مردوں سے تصاویر بنانے سے کتراتی ہیں لہذا وہ شناختی کارڈ نہیں بنوا رہی ہیں۔ جہاں تک خواتین ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دینے کی بات ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس کہ مخالف نہیں لیکن دیگر سیاسی جماعتیں مل کر انہیں پولنگ سے دور رکھنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ ان سے پوچھا کہ وہ اس رویے کو تبدیل کرنے کے لیے کیا کوئی کوشش کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ نہ تو وہ اس کے مخالف ہیں اور نہ وہ اسے تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین خود بھی ووٹ ڈالنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ہیں۔ دیر کی خواتین کو آخر ووٹ کا حق استعمال کرنے سے روک کون رہا ہے۔ یہی سوال جب ’خوئندو کور‘ کے ابریش پاشا سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں چاہے وہ دینی ہوں یا دوسری اس کے خلاف ہیں۔ غیرسرکاری تنظیمیں حکومت سے خواتین کو شناختی کارڈ بنوانے میں سہولت دینے کے علاوہ نئے ووٹروں کے اندراج کی مدت میں اضافے کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں۔ حکومت بھی عورتوں کو ان کا جائز مقام دلانے کی بات کر رہی ہے اور غیرسرکاری تنظیمیں بھی اس سلسلے میں فعال ہیں دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ بلدیاتی انتخابات دیر کی خواتین کے لیے کوئی تبدیلی لاتے ہیں یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||