BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 January, 2005, 13:40 GMT 18:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شریعت بل میں ترمیم نہیں ہوئی

سرحد اسمبلی
ایوان نے منظور شدہ بل کو مکمل اور درست قرار دیا
سرحد اسمبلی نے آج چھ دینی جماعتوں پر مشتمل صوبائی حکومت کے منظور کیے ہوئے شریعت بل میں ترمیم کی ایک کوشش ناکام بنا دی ہے۔

ایوان نے منظور شدہ بل کو مکمل اور درست قرار دیتے ہوئے کسی ترمیم کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے صوبائی حکومت میں آنے کے بعد دو ہزار تین میں صوبے میں شریعت کے نفاذ کے لیے ایک بل ایوان سے متفقہ طور پر منظور کرایا تھا جس کا نام شریعت بل رکھا گیا تھا۔

صوبائی اسمبلی کے جمعرات کے اجلاس میں سپیکر بخت جہاں خان نے ایم ایم اے کی ناراض جماعت جمعیت علما اسلام سمیع الحق گروپ کے رکن اور ڈپٹی سپیکر اکرام اللہ شاہد کو شریعت بل میں ترمیم کے لیے ترامیمی بل مجریہ دو ہزار چار کو پیش کرنے کی اجازت دی تو صوبائی وزیر قانون ایاز خان نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کو ایوان نے دو ہزار تین میں اتفاق رائے سے منظور کیا تھا لہذا اگر کوئی ترمیم تجویز کرنی تھی تو اس وقت کی جانی چاہیے تھی اب اس کا وقت نہیں۔

اس پر سپیکر نے اس بل کو پیش کرنے یا نہ کرنے کے لیے ایوان میں ووٹنگ کرائی۔

حزب اختلاف کے تمام اراکین کے علاوہ ایم ایم اے کے دو ارکان یعنی پیش کندہ اکرام اللہ شاہد اور پیر محمد خان نے بھی اسے پیش کرنے کی حمایت کی۔ حزب اقتدار کے اراکین کی مخالفت کی وجہ سے بل پیش ہونے سے قبل ہی ختم ہوگیا۔

بعد میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے اکرام اللہ شاہد نے اس تاثر کی نفی کی کہ اس ترمیمی بل کا مقصد ایم ایم اے کی حکومت کے لیے کوئی مسائل پیدا کرنا تھا۔

’یہ ترامیم میں نے دو ہزار تین میں ہی پیش کی تھیں جس وقت ہماری جماعت کے کوئی اختلافات نہیں تھے۔ لہذا اس بل کا باہمی اختلافات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ان ترامیم کے ذریعے وہ شریعت میں رکھے گئے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے چند تجاویز پیش کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود شریعت بل کی منظوری سے عوامی مسائل حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی ہے۔

دریں اثناء صوبائی اسمبلی نے آج ایک قرار داد میں مرکز سے مطالبہ کیا کہ اغوا برائے تاوان کے لیے مقرر سزاؤں کو قبائلی علاقوں پر بھی لاگو کیا جائے۔

متحدہ مجلس عمل کے خالد وقار چمکنی کی جانب سے پیش کی جانے والی قرار داد کا مقصد اغوا برائے تاوان کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانا اور اغوا کاروں کے قبائلی علاقوں میں پناہ لینے کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد