’اصلاحات کا عمل تیز کریں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے حامی افراد نے حکومت سے اس تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فاٹا ریفارمز کمیٹی نے جوکہ خود حکومت کے کہنے پر اس مسلہ پر صلاح مشورے کے لئے قائم کی گئی تھی اصلاحات میں تاخیر کو مجرمانہ قرار دیا۔ صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف نے دو برس قبل ایک اعلی سطحی اجلاس میں ملک کے قبائلی علاقوں میں انتظامی اور سیاسی اصلاحات کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اعلان سے ملک کے اس پسماندہ علاقے کے لوگوں میں اُمید پیدا ہوئی کہ ان کے لئے میں رائج صدیوں پرانے نظام میں بہتری لائی جائے گی۔ لیکن اس فیصلے کو دو برس گزر جانے کے باوجود اصلاحات کے حامیوں کو اس جانب کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی جوکہ ان کے لئے تشویش کی بات ہے۔ سن دوہزارمیں حکومت نے قومی تعمیر نو بیورو کے ذریعے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لئے صلاح مشورے کی غرض فاٹا ریفارمز کمیٹی کے اراکین سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد اسے مستقل شکل دے دی گئی تھی۔ کمیٹی میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد شامل ہیں۔ پشاور پریس کلب میں جعمرات کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں کمیٹی کے اراکین اقبال خیبروال، طور گل، ظاہر شاہ، مروت خان، نور محمد برکی اور دیگر نے اعلان کیا کہ وہ مارچ کے اواخر میں پشاور میں اصلاحات سے متعلق حمتی لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے لویہ جرگہ منقعد کریں گے۔ اس جرگے میں اصلاحات کے حق میں لانگ مارچ یا کسی دوسرے احتجاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کمیٹی نے اصلاحات کے حق میں سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کی حمایت حاصل کی جاسکے۔ اپنے مطالبات کی طویل فہرست پیش کرتے ہوئے کمیٹی کے رکن اقبال خیبروال نے کہا کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح قبائلی علاقوں میں بھی مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کروانے کی خاطر بلدیاتی انتخابات منعقد کئے جائیں، ایف سی آر میں قبائلیوں کی امنگوں کے مطابق ترامیم کی جائیں، پولیٹکل انتظامیہ سے الگ نظام انصاف قائم کیا جائے، فاٹا کی ترقی کے لئے خصوصی ترقیاتی پیکج تیار کیا جائے، تعمیر و ترقی کے عمل میں قبائلیوں کو شریک کیا جائے، قبائلی علاقوں میں پولیٹکل پارٹیز ایکٹ نافذ کیا جائے، سرحد اسمبلی میں قبائلیوں کو نمائندگی دی جائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تشکیل نو کی جائے اور الگ فاٹا یونیورسٹی قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قبائلی علاقوں میں اصلاحات نافذ کر دی جاتیں تو آئے دن وہاں فوجی کاروائیوں کی ضرورت پیش نہ آتی۔ قبائلیوں کا کہنا تھا کہ بیوکریسی نے ان اصلاحات میں جو ان کے فائدے کی چیزیں تھیں یقنی فاٹا کے لئے الگ سیکرٹریٹ کا قیام اس پر تو عمل کر لیا لیکن دیگر عوامی فائدے کی چیزوں کا ہاتھ تک نہیں لگایا۔ مبصرین کے خیال میں قبائلی علاقوں میں تبدیلی اور اصلاحات میں تاخیر کی ایک وجہ یہاں بسنے والوں کی جانب سے خود کسی منظم آواز اور مطالبے کا نہ اٹھنا بھی ہے۔ کیا یہ کمیٹی ایسے ہی کسی فورم کی کمی پوری کر سکے گی یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||