| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جے یو پی ایم ایم اے سے الگ
پاکستان میں چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی ایک اور چھوٹی جماعت جمعیت علمائے پاکستان (نورانی گروپ) نے اتوار کے روز صوبہ سرحد کی حد تک اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق گروپ) بھی اتحاد کی بڑی جماعتوں سے ناراضگی کی وجہ سے صوبے میں سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کئے ہوئے ہے۔ ایم ایم اے سے علیحدگی کا فیصلہ جمعیت علمائے پاکستان یا جے یو پی کی صوبائی شوریٰ اور مجلس عاملہ کے پشاور میں منعقد ایک مشترکہ اجلاس میں سامنے آیا۔ اجلاس کے بعد بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے جماعت کے صوبائی صدر اویس احمد قادری نے کہا کہ اس فیصلے کی وجہ انہیں مسلسل نظرانداز کیا جانا ہے۔ اُنہیں شکایت تھی کہ اُنہیں مشاورت میں شامل نہیں کیا جاتا اور اُن کے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ لیکن اس فیصلے کی بڑی وجہ انہوں نے ایم ایم اے کی قیادت کا سندھ میں ہفتے کے روز ایوان بالا یا سینٹ کی نشست کے انتخاب میں لائحہ عمل تھا۔ یہ نشست جے یو پی کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔ اویس قادری نے کہا کہ ایم ایم اے کو ایسی پالیسی اپنانی چاہیے تھی کہ یہ نشست انہی کو مل جاتی۔ جے یو پی کے ایم ایم اے کی صوبائی قیادت میں تمام عہدیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے عہدوں سے مستعفیٰ ہوجائیں۔ اویس کا کہنا تھا کہ وہ یہ استعفے اور اپنا علحیدگی کا فیصلہ جلد اپنی مرکزی قیادت کو ارسال کردیں گے جو اس ماہ کی سترہ تاریخ کو اس پر غور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرحد اسمبلی میں بھی وہ اپنے واحد رکن کے لئے الگ نشست کا تقاضا کریں گے۔ اس کے علاوہ جماعت نے اپنے رکن اسمبلی اختر نواز کو صدر پرویز مشرف کو گزشتہ دنوں اعتماد کا ووٹ دینے پر جاری کیا گیا اظہار وجوہ کا نوٹس بھی واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی ایک اور چھوٹی رکن جماعت جعمیت علما اسلام (سمیع الحق گروپ) نے اپنی صوبائی شوریٰ سے اتحاد سے حمایت واپس لینے کی سفارش کی تھی۔ اس نئی ناراضگی سے ظاہر ہوتا کہ ایم ایم اے کی قیادت کو اپنی چھوٹی جماعتوں کو خوش رکھنے میں شدید دقت کا سامنا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||