سرحد میں دینی مدارس کا اندراج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صوبہ میں دینی مدارس کے اندراج کا عمل آئندہ دو ہفتوں میں شروع کرنے کی امید رکھتی ہے۔ پشاور میں سرحد اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی کا کہنا تھا کہ دینی مدارس کا اندراج آئندہ دو ہفتوں میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کے فیصلے کے مطابق یہ عمل محمکہ صنعت ہی سرانجام دے گا اور اس ذمہ داری کو محمکہ سماجی بہبود کے حوالے نہیں کیا جا رہا۔ مولانا حقانی نے اس وقت صوبے میں موجود دینی مدارس کی تعداد کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ صورتحال اندراج کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔ صوبائی وزیر کے مطابق صرف ان مدارس کا اندراج کیا جائے گا جو وفاق المدارس کے مقررہ معیار پر پورے اترتے ہوں۔ صوبائی حکومت پر وفاق اور بین الاقوامی سطح پر ان مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لئے شدید دباؤ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||