BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 January, 2005, 11:25 GMT 16:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد میں دینی مدارس کا اندراج

مدرسہ
صوبائی حکومت پر وفاق اور بین الاقوامی سطح پر ان مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لئے شدید دباؤ ہے
سرحد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صوبہ میں دینی مدارس کے اندراج کا عمل آئندہ دو ہفتوں میں شروع کرنے کی امید رکھتی ہے۔

پشاور میں سرحد اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی کا کہنا تھا کہ دینی مدارس کا اندراج آئندہ دو ہفتوں میں شروع ہونے کا امکان ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کے فیصلے کے مطابق یہ عمل محمکہ صنعت ہی سرانجام دے گا اور اس ذمہ داری کو محمکہ سماجی بہبود کے حوالے نہیں کیا جا رہا۔

مولانا حقانی نے اس وقت صوبے میں موجود دینی مدارس کی تعداد کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ صورتحال اندراج کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

صوبائی وزیر کے مطابق صرف ان مدارس کا اندراج کیا جائے گا جو وفاق المدارس کے مقررہ معیار پر پورے اترتے ہوں۔

صوبائی حکومت پر وفاق اور بین الاقوامی سطح پر ان مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لئے شدید دباؤ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد