والدین کے ہاتھوں معلم کی پٹائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں مدرسے ایک کے معلم کو گاؤں کے لوگوں نے مل کر پیٹا اور پھر پولیس کے حوالے کر دیا۔ معلم نے قینچی سے اپنے نو طالبعلموں کے کان کاٹ دیے تھے جبکہ کئی دوسرے طلباء کو زخمی کر دیا تھا۔ ملک کے شمالی ضلع بوگرہ کے ایک دور دراز گاؤں میں عبدالماجد سردار نامی معلم نے مقامی مدرسہ کے شرارتی بچوں کو سزا دینے کا عجیب و غریب طریقہ اپنایا۔ معلم کے بقول اسے اس بات پر غصہ تھا کہ مزکورہ بچے قرآنی آیات کو بلند آواز میں نہیں دھرا رہے تھے۔ زخمی بچوں کے والدین نے جمعرات کو معلم کے خلاف مقامی تھانہ میں رپورٹ درج کرا دی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گاؤں کے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل اس اثناء میں مدرسہ کی انتظامیہ نے عبدا لماجد کو بچوں کووحشیانہ سزا دینے کی وجہ سے ملازمت سے برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے معلم نے کہا ” طلباء مدرسہ میں اودھم مچا رہے تھے۔میں قینچی دکھا کر ان کو محض ڈرانا چاہ رہا تھا لیکن شائد اس وقت مجھ پر شیطان غالب آ گیا۔” پولیس کے مطابق اس وقوعہ میں کل نو لڑکوں کے کان کٹےجبکہ کچھ دوسرے زخمی ہوئے۔ ڈاکٹروں نے ان میں سے دو لڑکوں کے کان ٹانکے لگا کرواپس جوڑ دیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||