بنگلہ دیش سے کارروائی کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزارت خارجہ میں انسداد دہشت گردی کے رابطہ کار کوفر بلیک نے بنگلہ دیش سے کہا ہے کہ وہ ملک میں ہونیوالے حالیہ بم دھماکوں کے ذمہ دار لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔ کوفر بلیک دارالحکومت ڈھاکہ کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ دو ہفتے قبل انیس لوگ اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب حزب اختلاف کی ایک ریلی پر گرینیڈ سے حملے کیے گئے۔ ڈھاکہ پہنچنے سے پہلے بلیک نے کہا کہ وہ فکرمند ہیں کہ کہیں بنگلہ دیش ’بین الاقوامی دہشت گردی کے لئے ایک پلیٹ فارم‘ نہ بن جائے۔ ڈھاکہ میں حکومتی وزراء کے ساتھ میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ حالیہ بم دھماکوں کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ انیس سو اکیانوے سے اب تک بنگلہ دیش میں سولہ بڑے دھماکے ہوئے ہیں لیکن پولیس نے ایک واقعے کے علاوہ کسی میں بھی کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی حزب اختلاف عوامی لیگ کا، جس کی ریلی پر دو ہفتے قبل ایک گرینیڈ حملہ کیا گیا، کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے لئے اسلامی قدامت پسند عناصر ذمہ دار ہیں۔ حکومتی وزراء نے عوامی لیگ کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ ان قدامت پرست طاقتوں کا تعلق برسراقتدار اتحاد سے ہے۔ کوفر بلیک نے کہا: ’میں بنگلہ دیش کی سیاست کا ماہر نہیں ہوں میں صرف انسداد دہشت گردی کے بارے میں جانتا ہوں۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’جب معصوم لوگ مارے جاتے ہیں تو مجھے افسوس ہوتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ جلدی سے اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ کون لوگ ان حملوں کے لئے ذمہ دار تھے اور پھر ان پر عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔‘ کوفر بلیک نے یہ باتیں ایسے وقت کہی ہیں جب آج ملک کے شمال مشرقی شہر سِلہٹ میں ایک بم دھماکے ہوا۔ اس دھماکے میں ایک پینتیس سالہ شخص اور اس کا بھتیجا ہلاک اور سات دوسرے لوگ زخمی ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں شک ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص بم لے جارہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||