دھماکہ: بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں حزبِ اختلاف نے سنیچر کے روز اپنی ایک ریلی میں ہونے والے بم دھماکوں کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج کی تقرری کے حکومت کےاقدام کو ٹھکرا دیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئےعوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبدل جلیل نے کہا کہ اس واقع کی آزادانہ تحقیقات تبھی ممکن ہے جب کوئی قابل قبول بین الاقوامی تنظیم یہ ذمہ داری لے۔ اس حملے میں 19 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ گزشتہ روز اذان مغرب کے بعد دس ہزار کے قریب حزب اختلاف کے کارکنوں اور حامیوں نے ڈھاکہ کی بیت المکرم مسجد میں دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی۔ نماز جنازہ کے بعد مظاہرین نے ایک جلوس کی صورت میں دارالحکومت کی سڑکوں پر مارچ شروع کر دیا۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں اتوار کو بھی تمام دکانیں بند رہیں۔ وزیر اعظم شیخ خالد ضیاء نے ان بم دھماکوں کی مذمت کی ہے اور حزب اختلاف کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت عوامی لیگ نے منگل اور بدھ کو دو روزہ ہڑتال کی اپیل کی ہے جس کے دوران مزید مظاہرے ہونے کا خدشہ ہے۔ حزب اختلاف ان دھماکوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد کر رہی ہے۔ رائٹرز خبر رساں ادارے کے مطابق اتوار کو ڈھاکہ میں ہونے والے مظاہروں میں کم از کم دو سو افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||