بنگلہ دیش: معروف مصنف ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے ایک معروف مصنف جنہوں نے حال ہی میں مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ایک کتاب ”پاک سرزین شاد باد” لکھی تھی جرمنی میں مردہ پائے گئے ہیں۔ جرمنی کے حکام کے مطابق ستاون سالہ ہمایوں آزاد اپنے فلیٹ میں سوتے ہوئے فوت ہو گئے۔ پروفیسر آزاد کے لواحقین نے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ پروفیسر آزاد پر بنگلہ دیش میں اسی سال فروری میں چھریوں سے حملہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس کی ذمہ داری سخت گیر موقف رکھنے والی اسلامی تنظیموں پر عائد کی تھی۔ وہ پچاس کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی کتاب ”پاک سر زمین شاد” باد میں بنگلہ دیش میں حالیہ سالوں میں مذہبی انتہا پسندی پر سخت تنقید ہے۔ کئی اسلامی تنظیموں نے اس کتاب کی اشاعت پر سخت احتجاج کیا اور اس کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ حال ہی میں بنگلہ دیش کی کچھ اسلامی تنظیموں نے پروفیسر آزاد پر ان کی ایک کتاب کی وجہ سے تنقید کی تھی جس میں انہوں نے کچھ پاکستانیوں پر بنگلہ دیش کے قیام میں کردار کو نشانہ بنایا تھا۔ پروفیسر آزاد کی ہلاکت کی خبر کے ساتھ ہی ڈھاکہ یونیورسٹی میں طالب علموں کی طرف سے زبردست مظاہرے شروع ہو گئے۔ ان کے بیٹے انانیا نے کہا ہے کہ انہیں گزشتہ ماہ اغوا کر کے ان کے والد کے بارے میں پوچھا گیا تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ پروفیسر آزاد نے گزشتہ ہفتے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے جرمنی جانے سے پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں مِل رہی ہیں۔ جرمنی کے سفارت خانے کے حکام نے پروفیسر آزاد کے گھر والوں کو بتایا ہے کہ غالباً ان کی موت دِل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔ تاہم ان کی بیٹی کا کہنا ہے وہ مکمل طور پر صحتمند تھے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں اساتذہ کی تنظیم نے بھی پروفیسر آزاد کی ہلاکت پر سخت احتجاج کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||