ہڑتال: بنگلہ دیش میں زندگی معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں حزب احتلاف کی بڑی جماعت عوامی لیگ کی دو روزہ ہڑتال کی اپیل پر ملک میں زیادہ تر کام بند ہے۔ عوامی لیگ نے ہفتے کے روز ایک سیاسی جلسے کے دوران ہونے والے بم دھماکوں کے بعد ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ اِن دھماکوں میں اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں عوامی لیگ کی ایک سینیر رہنما آئی وی رحمان بھی شامل ہیں جو زخموں کی تاب نہ لا کر منگل کے روز ہلاک ہوئیں۔ ملک میں حزبِ اختلاف کی رہنما شیخ حسینہ واجد بھی اس جلسے میں موجود تھیں اور وہ محفوظ رہیں۔ مظاہرین وزیر اعظم خالدہ ضیا کے استعفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ بیگم ضیا کی حکومت نے ان اسلامی شدت پسندوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے جو ذرائع ابلاغ کے کچھ اداروں کے مطابق حملے کے ذمہ دار ہیں۔ ہڑتال کے نتیجے میں ڈھاکہ میں سکول و دفاتر بند رہے اورسڑکوں پر ٹریفک بہت کم تھی۔ عوامی لیگ کے حامیوں نے کئی جلوس بھی نکالے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین پولیس پر پتھراؤ کرتے رہے اور پولیس جواب میں لاٹھی چارج کرتی رہی۔ ٹرانسپورٹروں کے مطابق ڈھاکہ کو ملک کے دوسرے حصوں سے ملانے والے راستوں پر بہت کم ٹریفک تھی تاہم انہوں نے کہا کہ کچھ ٹرینوں اور کِشتیوں کے چلنے کا امکان تھا۔ حکام کےمطابق ہڑتال سے چٹاگانگ کی بندرگاہ پر کام متاثر ہونے کا بھی اندیشہ تھا۔ مبصرین کے مطابق حکومت کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج مذہبی شدت پسندوں سے ملک کو بچانا اور اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ قائم رکھنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||