ڈھاکہ میں دھماکے: سولہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں حزب اختلاف کے جلسے میں بم دھماکوں میں سولہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دھماکے اس وقت ہوئے جب عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ پارٹی دفتر کے باہر ایک جلسے سے خطاب کر رہی تھیں۔ دھماکوں میں شیخ حسینہ کو جو سابق وزیراعظم ہیں، کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش میں اس سال ہونے والے دھماکوں میں یہ تازہ ترین دھماکے ہیں۔ سلہٹ میں اسی طرح کے ایک دھماکے میں عوامی لیگ کے ایک رہنما ہلاک ہو گئے تھے۔ دھماکوں کے بعد احتجاج کے طور پر عوامی لیگ نے دو دن کی عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہفتے کے دھماکے میں تین سو لوگ زخمی ہوئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک کیمرہ مین رفیق رحمان نے جو موقع پر موجود تھے بتایا کہ ’میں نے کئی دھماکوں کی آواز سنی اور لوگوں کو بھاگتے دیکھا‘۔ انہوں نے کہا کہ زخمی ہونے والوں میں زیادہ عورتیں تھیں۔ عینی شاہدوں نے بتایا ہے کہ خون میں لت پت کئی زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا۔ خبر رساں ادارے اے پی کی اطلاع کے مطابق دھماکوں کے بعد عوامی لیگ کے ارکان نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری عبدلجلیل نے ان دھماکوں کی مذمت کی ہے اور کہا کہ حملوں کا مقصد شیخ حسینہ کو نشانہ بنانا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||