سرگودھا میں دینی مدرسہ سیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے سرگودھا میں محکمہ اوقاف کے حکم پر ایک دینی مدرسہ کو سیل کردیا گیاجہاں پچیس افغان باشندے غیرقانونی طور پر مقیم تھے۔ سرگودھا کے بلاک اے میں واقع شہر کی مرکزی جامع مسجد سے وابستہ مدرسہ سراج العلوم دیوبندی مسلک کی قدیمی درسگاہ ہے جہاں علوم شریعہ کی تعلیم دی جاتی ہے اور پچاس سے زیادہ طالبعلم یہاں زیرتعلیم ہیں۔ سوموار کو پولیس نے محکمہ اوقاف کے حکم پر مدرسے کو مہر بند کردیا۔ دس روز پہلے اس مدرسے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک طالبعلم آصف کو قتل کردیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران پولیس کو پتہ چلا تھا کہ آصف کو دینی موضوع پر بحث کے دروان افغانستان سے آئے ہوئے طالبعلم فصیح الدین نے قتل کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فصیح نے خود کو میانوالی کا رہائشی ظاہر کیا ہوا تھا۔ اس واقعہ کے بعد مدرسے کے پچیس طلبا روپوش ہوگۓ جن کے بارےمیں کہا جاتا ہے کہ ان سب کا تعلق افغانستان سے تھا اور جو پاکستان کے مختلف شہروں کے پتے ظاہر کرکے اس مدرسے میں ٹھہرئے ہوئے تھے۔ مدرسے کہ سربراہ مفتی معید نے مدرسے کو بند کرنےکی مذمت کی ہے اور کہا کہ پولیس نے تفتیش کے دروان ان کے بیٹے کو بھی حراست میں لے لیاہے۔ سرگودھا کے ضلعی پولیس آفیسر نعیم خان سے بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ وہ تفصیلات معلوم کرکے اس بارے میں کچھ کہہ سکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||