BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 April, 2005, 17:25 GMT 22:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواتین کی راہ میں دہشتگردی

پنجاب اسمبلی
پنجاب اسمبلی میں قرار داد کی منظوری کے خلاف ایم ایم اے اور مسلم لیگ نواز نے بائیکاٹ کیا
پنجاب اسمبلی میں گوجرانوالہ میراتھن ریس پر حملے کے خلاف حکومتی قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔ اس قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خواتین کے خلاف اس طرح کے اقدامات کو دہشت گردی قرار دیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے اراکین نے بائیکاٹ میں حصہ لیا نہ قرار داد کے حق میں ووٹ دیا۔

مجلس عمل اور مسلم لیگ نواز نے اس قرار داد کی مخالفت کی اور احتجاج کے طور پر بائیکاٹ کیا ۔گوجرانوالہ میں کل میراتھن ریس کے موقع پر ایم ایم اے کے جلوس اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا تھا جس میں دونوں اطراف کے لوگ زخمی ہوئے تھے اور میراتھن ریس نہیں ہوسکی تھی۔

آج لاہور میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں منظور کی گئی ایک حکومتی قرار داد میں اس واقعہ کو افسوسناک اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ خواتین کی صحت مندانہ اور مثبت سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنا اور بلاشبہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مترادف ہے۔حکومتی اراکین کی جانب سے ہی پیش کردہ اس قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا خواتین کے خلاف تشدد کی کارروائی میں ملوث افراد اور تنظیموں کے ایسے عمل کو دہشت گردی قرار دیا جائے اور ایسے واقعات کا آئیندہ کے لیے سدباب کیا جائے ۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کثرت رائے منظور کی گئی صوبائی وزیر قانون نےجب یہ قرار داد پیش کرنے کے لیے ایوان سے اجازت طلب کی تو مجلس عمل اور مسلم لیگ نواز کے اراکین اسمبلی نے احتجاج کیا انہوں نے اس واقعہ کی ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عورتوں اور مردوں کی مخلوط دوڑ دین کی روح کے خلاف ہے۔

مجلس عمل کے رکن پنجاب اسمبلی احسان اللہ وقاص نے کہا کہ پاکستان میں اسلام کی جڑیں بہت گہری ہیں اور یہاں پر خواتین کو نیکر پہنا کر سڑکوں پر دوڑانا کسی طور پر مناسب نہیں ہے ۔

مجلس عمل کے ارشد بگو نے کہا کہ گجرانوالہ میں مجلس عمل کے کارکن پرامن تھے اور انتظامیہ سے مذاکرات کر رہے تھے کہ عورتوں اور مردوں کی الگ الگ دوڑ کرائی جائے ابھی بات جاری تھی کہ ان پر حملہ کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کروائی جائیں۔

حکومتی رکن اسمبلی ظل ہما نے کہا کہ خواتین نے کوئی عریاں لباس نہیں پہنا تھا اس طرح کی بات کرکے ان کی تذلیل کی جارہی ہے۔

مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ضروری نہیں کہ اگر امریکہ میں میرا تھن ہوتی ہو تو پھر پاکستان میں بھی کروائی جائے انہوں نے کہا کہ وہ عورتوں کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ عورتوں کے لیے بہت سی انڈور گیمز ہیں جس سے ان کی صحت برقرار رہ سکتی ہے انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ خواتین باکسنگ اور پہلوانی ہی کریں۔

مسلم لیگ نواز اور مجلس عمل کے اراکین اسمبلی کارروائی کا بائیکاٹ کرکے چلے گئے اور ان کی غیر جودگی میں قرار داد منظور کر لی گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد