پاکستانی خواتین مصنفین کی کتاب بھارت میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی خواتین ادیبوں کی کہانیوں پر مبنی ایک کتاب کا اجراء پنچاب کے دارالحکومت چندی گڑھ میں کیا گیا ہے۔ کتاب " ہاف دی اسکائی " مختصر افسانوں کا مجموعہ ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کم شہرت یافتہ پاکستانی خواتین کی تحریریں ہندوستانی قارئین کو پیش کی گئی ہیں۔ ایک خاص تقریب میں دلی میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر منور بھٹی نے ’ہاف دی اسکائی‘ کا اجراء کیا ۔ اس کتاب میں پاکستان کی چھبیس خواتین کی مختصر کہانیاں شامل ہیں ۔ بعض افسانے زاھدہ حنا جیسی مشہور خاتون ادیبوں کے ہیں۔ لیکن زیادہ تر کہانیاں نوجوان اور ہم عصر مصنفین کی ہیں۔ ’ہاف دی اسکائی‘ میں شامل افسانے اردو ، پنجابی ، سندھی ، بلوچی ، پشتو اور سرائیکی جیسی زبانوں سے انگریزی میں ترجمہ کیے گئے ہیں۔ کتاب کے اجراء کے موقع پر مسٹر منور بھٹی نے کہا کا اس طرح کی کوشیشیں بڑی اہم ہیں۔ کیونکہ اس سے آپسی غلط فہمیوں کا ازلہ ہوگا اور ہندوستان اور پاکستان کی عوام کے درمیان رشتے بھی مضبوط ہوں گے۔ کتاب کی مدیر ہندوستان کی مشہور پنجابی ادیبہ نروپما دتّہ ہیں۔ محترمہ دتّہ نے اس موقعے پر کہا کہ اس کتاب کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانی خواتین کے مختلف پہلوؤں کے متعلق ہندوستانی قارئین بھی واقفیت حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہاف دی اسکائی ‘ میں شامل زیادہ تر مصنفہ سماجی کارکن ہیں۔ ان کی تحریروں میں صنف نازک کے احساسات و خیالات کا اظہار انوکھے انداز میں ہوا ہے۔ اور وہ سر حدوں سے بالاتر ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||