| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مکتبِ داستان گویاں
یوں تو سبھی ادبی حلقے نئے ادیبوں اور شاعروں کی تربیت میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن پنجاب کے قلم کاروں کی کئی نسلوں کو پروان چڑھانے میں جو کردار حلقۂ اربابِ ذوق نے ادا کیا ہے اس کی نظیر برِصغیر میں ملنا مشکل ہے۔ اس حلقے کی ابتدا لاہور میں آج سے چونسٹھ برس قبل اس وقت ہوئی جب چند نوجوان کہانی کاروں نے مل بیٹھنے کے لیے ’بزمِ داستاں گویاں‘ کے نام سے ایک انجمن بنائی جس کا پہلا اجلاس انتیس اپریل انیس سو انتالیس کو ہوا۔ اجلاس میں کل سات افراد تھے اور اس وقت تک یہ سبھی لوگ گمنام تھے لیکن بعد میں نسیم حجازی، شیر محمد اختر اور تابش صدیقی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہ رہا۔ ’بزمِ داستاں گویاں‘ کے دس جلسے ہوئے جس کے بعد تین ستمبر انیس سو انتالیس کو اس انجمن کا نام بدل کر حلقۂ اربابِ ذوق رکھ دیا گیا۔ نئے نام کے تحت اس انجمن کا پہلا اجلاس یکم اکتوبر انیس سو انتالیس کو ہوا۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ سن چالیس اور پچاس کے عشرے، حلقۂ اربابِ ذوق کے سنہری دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ویسے بھی سیاسی تحریکوں اور معاشرتی اتھل پتھل کا زمانہ تھا۔ دوسری بڑی جنگ کے بعد جہاں یورپ میں انسانی شعور کی نئی پرتیں کھل رہی تھیں وہاں ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے محکوم عوام تک بھی نئے افکار کی روشنی پہنچ رہی تھی۔ خود ہندوستان میں آزادی کی تحریک اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ چکی تھی۔ ادبی محاذ پر ہر طرف سن چھتیس کی ترقی پسند تحریک کے جھنڈے گڑے تھے لیکن کڑے اصول و ضوابط کے باغی اور ادب میں پارٹی لائن کی پیروی کے مخالفین روزِ اوّل ہی سے اس تحریک سے بد دل ہو چکے تھے۔ ایسے ناراض ادیبوں کے لیے حلقۂ اربابِ ذوق ایک عمدہ پلیٹ فارم مہیا کرتا تھا۔ حلقے کا دروازہ ہر مکتبِ فکر کے لیے کھلا تھا چنانچہ اگر ترقی پسند سمجھے جانے والے شاعر ن۔م۔راشد کی صدارت میں کمیونسٹ ادیب سبطِ حسن ادب و فن کی مارکسی توجیہات پر مبنی اپنا مقالہ پڑھتے ہیں تو اسی محفل میں موجود دائیں بازو کے نقاد عابد علی عابد اس کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر دائیں بازو کا کوئی ادیب اسلامی یا پاکستانی ادب کی اصطلاح استعمال کرتا ہے تو ہر طرف سے اشتراکی نقادوں کے غول اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ لیکن اس تمام تر غلغلے اورگرم بازاری کے باوجود حلقے میں ایک باطنی ضبط موجود تھا جس کی بدولت تمام علمی لڑائیاں اور ادبی معرکے بحث و تمحیص کی حدود میں شروع ہو کر اسی دائرہ کار میں ختم ہو جاتے۔ یہی وہ یادگار زمانہ تھا جس میں مِیرا جی اور قیوم نظر سے لے کر ضیاء جالندھری اور شہرت بخاری جیسے شاعروں کی ذہنی تربیت ہوئی، محمد صفدر میر اور سید امجد حسین جیسے دانشوروں کی فکر کو جِلا ملی اور انتظار حسین اور میرزا ادیب جیسے کہانی کاروں کو اپنی بات سنانے کے لیے مناسب سامعین نصیب ہوئے۔
لیکن حلقے میں ان کی باقاعدہ آمد سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ اردو کا اتنا بڑا افسانہ نگار اس ادبی محفل کو کتنی اہمیت دیتا تھا۔ سعادت حسن منٹو نے انیس سو اڑتالیس سے انیس سو پچپن تک کے عرصے میں اپنی اٹھارہ کہانیاں جلسے میں پڑھیں اور ایک بار تو ایسا ہوا کہ انہیں ایک ہی نشست میں دو کہانیاں سنانی پڑیں۔ حلقے میں اصول ہے کہ غیر مطبوعہ چیز ہی سنائی جا سکتی ہے۔ منٹو نے پہلے جو کہانی پڑھی اس پر اعتراض ہوا کہ یہ تو چھپ چکی ہے۔ منٹو کو شاید پہلے سے اس اعتراض کا خطرہ تھا چنانچہ انہوں نے جیب سے ایک نئی کہانی نکالی اور پڑھنی شروع کر دی۔ حلقے کی محفلیں ان دنوں وائی۔ایم۔سی۔اے کے بورڈ روم میں وہاں کے معروف بیضوی میز کے گرد منعقد ہوا کرتی تھیں جہاں کوئی اٹھارہ یا بیس افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ اتنے ہی لوگ کرسیوں کی پچھلی قطار میں سما جاتے اور اس طرح تیس چالیس افراد کا اجتماع ہو جاتا۔ جس روز حلقے میں کوئی اہم چیز پڑھی جاتی اس دن لوگوں کی تعداد پچاس ساٹھ تک پہنچ جاتی البتہ حلقے کے جس سالانہ جلسے میں منٹو نے اپنا افسانہ ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ پڑھ کر سنایا، حلقے کے رجسٹر میں درج شدہ کارروائی کے مطابق، اس میں ایک سو نواسی افراد کی ریکارڈ تعداد نے شرکت کی۔ صدر ایوب خان کی حکومت آخری دموں پر تھی، مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک زور پکڑ رہی تھی اور ہر طرف ’ایشیاء سرخ ہے‘ کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ ذرائع ابلاغ کی دنیا پر بلا شرکتِ غیرے راج کرنے والے ریڈیو پاکستان کو پہلی بار ایک نئے میڈیم کے چیلنج کا سامنا تھا۔ لاہور، کراچی اور ڈھاکہ سے ٹیلی وژن کی نشریات شروع ہو چکی تھیں۔ بائیں بازو کے ادیب شوکت صدیقی کا ناول ’خدا کی بستی‘ ٹیلی وژن سے ہفتہ وار نشر ہو رہا تھا اور ترقی پسند ادیبوں کو پہلی بار یہ مسرت افزاء احساس ہو رہا تھا کہ اس نئے ذریعے سے نہ صرف ان کا پیغام مؤثر انداز میں لاکھوں عوام تک پہنچ سکتا ہے بلکہ خود ادیبوں کے معاشی مسائل بھی ٹیلی وژن کے بھاری معاوضوں سے حل ہو سکتے ہیں۔ حلقۂ اربابِ ذوق کے ادیبوں میں اس صورت حال کا سب سے مثبت اثر ڈاکٹر انور سجاد پر پڑا جو نہ صرف افسانہ نگار تھے بلکہ اپنی کہانیوں کو بیک جنبشِ قلم تمثیل میں بھی بدل سکتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود اداکار بھی تھے۔ گرد و پیش کے سیاسی حالات کی روشنی میں حلقۂ اربابِ ذوق بھی دائیں اور بائیں بازو میں تقسیم ہو چکا تھا۔ اولذکر قبیلے کے سرخیل سجاد باقر رضوی، انتظار حسین اور اعجاز بٹالوی تھے جبکہ دوسری طرف عزیز الدین احمد، عزیز الحق اور امین مغل جیسے افراد تھے۔ اس گروپ کو صفدر میر اور ظہیر کاشمیری جیسے بزرگوں کی اعانت اور حمایت بھی حاصل تھی اور بعد میں محمود لڈو اور شاہد محمود ندیم جیسے ریڈیکل نوجوان بھی سرگرم ہو گئے۔ اگرچہ کچھ عرصہ بعد یہی ’سرگرمی‘ حلقے کو دو لخت کرنے کا باعث بھی بنی۔ حلقۂ اربابِ ذوق اگرچہ آج بھی موجود ہے اور اس کی ہفتہ وار کارروائیاں بھی جاری ہیں۔۔۔’مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی‘۔ شاید ہر کسی کو اپنی نوجوانی کا زمانہ ہی سنہری دور محسوس ہوتا ہے۔ ہم سے پہلے لوگ مِیرا جی اور قیوم نظر کے وقتوں کو سنہری دور کہتے تھے۔ ہم لوگ شہزاد احمد، عزیز الدین احمد اور اکبر لاہوری کے دور کو سنہرا قرار دیتے ہیں اور مستقبل میں شاید آج کا دور سنہری رنگ اختیار کر جائے۔ تاہم حلقۂ اربابِ ذوق کی تاریخ کو معروضی انداز میں پرکھنے کے لیے اب ایک پیمانہ منظر عام پر آ چکا ہے۔ معروف افسانہ نگار یونس جاوید نے اس تنظیم کی ساٹھ سالہ کارروائیوں کو بڑی عرق ریزی سے اکٹھا کر کے ایک تحقیقی مقالے کا موضوع بنایا جس پر پنجاب یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی سند عطا کی ہے۔ شائقین اردو ادب کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ اب گیارہ سو بہتّر صفحات کی یہ اہم دستاویز دوست پبلیکیشنز اسلام اباد نے شائع کر دی ہے۔ عنوان ہے: ’حلقۂ اربابِ ذوق۔۔۔تنظیم، تحریک، نظریہ‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |