BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 September, 2003, 16:08 GMT 20:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ادب کا موضوع جنگ

بانو قدسیہ کی کتاب حاصل گھاٹ اور دیگر اردو کتب
پھر سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا جنگ مسائل کا حل ہے؟

پچھلے کچھ مہینوں میں پاکستان میں جو ادب تخلیق ہوا ہے وہ موضوع کے اعتبار سے ایسے تھیمز کے بارے میں ہے جن کا تعلق افغانستان اور عراق سے ہے۔

حال ہی میں بانو قدسیہ کا ناول ’حاصل گھاٹ‘ شائع ہوا جس میں افغانستان سے پیدا ہونے والی صورت حال اور پیچیدگیوں کی وجہ سے مسلمانوں، خاص طور پر پاکستانیوں کےلیے امریکہ میں جو مشکلات پیدا ہوئی ہیں ان کا احاطہ کیا گیا ہے۔

بانو قدسیہ نے مشرق اور مغرب کی تفریق کو قائم رکھتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کے بحران کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کی ہے۔

ظاہر ہے اس ناول میں جو لوگ اپنا وطن چھوڑ کر پیسے اور دنیاوی چمک دمک کی خاطر مغربی ممالک کا رخ کرتے ہیں ان کے بارے میں تہنیت کے کلمات نہیں ہیں اور ان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ناول کا ہیرو ایک بوڑھا شخص ہے جواپنی بیٹی اور بیٹے سے ملنے امریکہ جاتا ہے، وہاں کچھ عرصہ قیام کرتا ہے اور پھر وطن واپس آنےکا فیصلہ کر لیتا ہے۔

اس کا اپنے وطن میں کوئی بھی قریبی رشتہ دار یا اولاد نہیں۔ وہ تو سب امریکہ میں رہتے ہیں مگر پھر بھی وہ وہاں نہیں رہنا چاہتا۔

امریکہ کا طرز زندگی اور وہاں کے لوگوں کی منزل اس کی سمجھ سے باہر ہے۔

وہ وہاں کی ایشیائی کمیونٹی کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ ایک طرف اپنی شناخت برقرار رکھنے میں مصروف ہے اور دوسری طرف امریکیوں کی طرح زندگی گزارنا پسند کرتی ہے یا زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

اس تضاد کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا ذکر ’حاصل گھاٹ‘ میں بھرپور طریقے سے کیا گیا ہے۔

بانو قدسیہ کا قہر نسوانی کرداروں پر گرتا ہے۔ ان کے نسوانی کردار قابلِ نفرت ہیں اور یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے مردوں کو ایک خاص نہج پر لانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

یہ رجحان بانو قدسیہ کی تحریروں میں گزشتہ دو دہائیوں سے نظر آتا ہے۔ عورتوں کے کردار اپنی بھاگ دوڑ میں اپنے صحیح کردار سے گمراہ ہو جاتے ہیں جو انہیں فطرت نے ودیعت کیا ہے۔

اسی سے تمام خامیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بانو قدسیہ نے مغرب اور مشرق کی روایتی تفریق کو چیلنج نہیں کیا بلکہ اس کو بنیاد بنا کر اپنےکرداروں کی سرزنش کی ہے۔

اس تفریق کو دوبارہ سے دیکھنے، پرکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انسانوں کا ایک جمِ غفیر مغرب کی طرف جا رہا ہے۔ اسے تحمل اور ایمانداری سے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسے محض مسترد کر دینے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔

مستنصر حسین تاڑر کا ناول ’قلعۂ جنگی‘ بھی افغانستان کے بارے میں ہے۔ قلعۂ جنگی کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جس میں انسانوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

وہ ایک بڑی طاقت کے ہاتھوں بے بس اور مجبور ہیں اور مکھی مچھروں کی طرح مرتے ہیں۔

یہ طاقت اور فتح کا وحشی پہلو ہے جس میں انسانوں کی کوئی وقعت نہیں۔ قلعہ جنگی میں ایک نہایتی المناک واقعہ ہوا تھا جس میں کئی سو جنگی قیدی مارے گئے تھے۔

جرم یہ تھا کہ کچھ قیدیوں نے بھاگنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ایک جھڑپ شروع ہوگئی جس میں امریکی بھی ہلاک ہو گئے اور اسی وجہ سے قیدیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی اور ان پر فضا سے بمباری کی گئی جس کے باعث بہت سے قیدی ناحق مارے گئے۔

یہ دو ناول بہت سی تحریروں کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا جنگ مسائل کا حل ہے؟

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد