| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردو: کوئی غیر معمولی کتاب نہیں آئی
گزر جانے والا سال، پاکستان میں اردو ادب کے لئے ایک بے حد روایتی اور عام سا سال ثابت ہوا کیونکہ اس برس کوئی ایسی بڑی کتاب منظر عام پر نہیں آئی جس پر ادبی حلقے چونک اٹھے ہوں۔ اس کے باوجود پاکستان میں کتابوں کے شائع ہونے کی رفتار کم نہیں ہوئی۔ اگرچہ ملک میں کتابوں کی اشاعت کے بارے میں مکمل اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں تاہم بیشتر پبلشرز کا محتاط اندازہ یہ ہےکہ گزشتہ سال کے دوران لگ بھگ دو ہزار کتابیں شائع ہوئیں۔ زیادہ تر کتابیں لاہور اور کراچی کے اشاعتی مراکز سے منظرعام پر آئیں۔ معروف پبلشر اور کتابوں کے تقسیم کار اصغر زیدی کے مطابق گزشتہ برس جو کتابیں فروحت کے اعتبار سے سرِ فہرست رہیں ان میں بانو قدسیہ کی ’حاصل گھاٹ‘ مستنصر حسین تارڑ کی ’برفیلی بلندیاں‘ جسٹس جاوید اقبال کی ’اپنا گریباں چاک‘ فوزیہ سعید کی ’کلنک‘ واعظ سیال کی ’شاہراہ کامیابی‘ امیر حسین چمن کی ’مینا کماری، میری بھابی‘ وصی شاہ کی ’مجھے صفل کردو‘ اور منو بھائی کی مرتب کردہ اردو کی بہترین مزاحیہ شاعری شامل ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں نوجوان شاعروں کے مجموعے فروخت کے اعتبار سے بے حد کامیاب رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق گزشتہ برس ادبی حلقوں میں انتظار حسین کی ’دلی تھا جس کا نام‘ کشور ناہید کی ’بری عورت کے خطوط‘ آغا بابر کی ’خد و خال‘ مشفق خواجہ کی ’کلیاتِ یگانہ چنگیزی‘ کو پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس برس انور سجاد کے افسانوں کا مجموعہ ’چراغوں کا دھؤاں‘ الطاف گوہر کی ’گوہر گزشت‘ حمید اختر کی ’آشنائیاں کیا کیا‘ فخر زماں کی ’پنجاب، پنجابی اور پنجابیت‘ اور شبنم شکیل کی ’تقریب کچھ تو‘ بھی اشاعت پذیر ہوئیں۔
اس کے علاوہ دو ہزار تین کے دوران ممتاز ادیبوں کی اور کےتابیں بھی آئیں جن میں خالدہ حسین کا ناول، کاغذی گھاٹ، چرحوم پروفیسر ممتاز حسین کے غیر مطبوعہ مضامین جو آصف فرخی نے ’ادب اور روحِ عصر‘ کے نام سے مرتب کیے ہیں، مصطفیٰ کریم کا ناول ’طوفان کی آہٹ‘ زاہد حسین کا ’عشق کے مارے‘ (یہ ناول پہلے انہوں نے پنجابی میں اور اب اردو میں لکھا ہے) اس کے علاوہ شمس الرحمن فاروقی کی ’لغاتِ روزمرہ‘ پاکستان اور بھارت سے ایک ساتھ شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب تنقید کے اعتبار سے تو نہیں لیکن تبدیل ہوتی ہوئی اردو کے تناظر میں ایک اہم کتاب ثابت ہو گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||