BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 March, 2005, 23:32 GMT 04:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواتین پر تشدد کے خلاف مہم

News image
خواتین پر تشدد کے خلاف حال میں ہونے والا ایک احتجاجی مظاہرہ۔ فائل فوٹو
’خواتین پر تشدد خصوصًا غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اب ماہرین معاشرے میں لوگوں کے رویے میں تبدیلی کے حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال کوئی ایک ہزار سے پندرہ سو خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے اور اب اس میں جائداد کے تنازعے۔ زاتی دشمنی اور بدلے لینے کے لیے خواتین کو کسی غیر مرد کے ساتھ قتل کرکے غیرت کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار کوئٹہ میں ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم آکسفام اور دیگر تنظیموں کی جانب سے منعقدہ سیمینار میں مقررین نے کیا ہے۔ یہ سیمینار اور اس کے علاوہ پوسٹرز کی نمائش اور سٹیج ڈرامہ ’ ہم کر سکتے ہیں۔۔ سیاہ کاری کا خاتمہ‘ کے عنوان سے شروع کی جانے والی اس مہم کا حصہ ہیں جس کا بلوچستان میں بدھ کے روز سے آغاز ہوا ہے۔

سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ اسلام خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن یہاں غیرت کے نام پر صرف عورت ہی نہیں بلکہ مرد بھی قتل کر دیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اسلام میں زنا کے ملزم کے لیے چار گواہیاں ضروری ہیں اور اگر ایک میں ذرا بھر شک ہو تو باقی حدود زائل ہو جاتے ہیں۔

سیمینار میں موجود دور دراز علاقوں سے آنے والی خواتین نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ انتہائی گھمبیر ہو گیا ہے اور اب اس پر صرف افسوس یا ہمدردی کے علاوہ عملی اقدام کر نے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر خوتین پر تشدد سیاہ کاری یا کاروکاری اور دیگر متعلقہ موضوعات پر تیار کردہ پوسٹرز کی نمائش کی گئی اور اسی موضوع پر ایک سٹیج ڈرامہ پیش کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد