BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 April, 2005, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میراتھن ریس نہیں ہونے دیں گے‘

مولانہ فضل الرحمان
مولانہ فضل الرحمان نےمیراتھن کو پاکستانی قوم کی خواتین کی توہین قرار دیا
پاکستان کی چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے میراتھن کا انعقاد نہیں روکا تو ملک بھر میں مجلس عمل کے کارکن اسے طاقت سے روکیں گے۔

وہ آج لاہور میں کیمپ جیل کے بیرونی احاطے میں اخبار نویسوں سے بات کر رہے تھے۔

انہوں نے میراتھن کو پاکستانی قوم کی خواتین کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک بھر کے عوام اور کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہر سطح پر بقول ان کے ’عریانی اور فحاشی‘ کے انسداد کے لیے میراتھن کو روکیں ۔

لاہور میں بین الاقوامی میراتھن کے انعقاد کے بعد وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر صوبے کے مختلف ناظمین نے مقامی سطح پر میراتھن کرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

مجلس عمل میرا تھن کی اس بنیاد پر مخالفت کر رہی ہے کہ اس میں عورتیں اور مرد ساتھ ساتھ دوڑتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ حکومت پنجاب ازخود شرافت سے ان (میراتھن کے انعقاد ) اقدامات کو واپس لے ورنہ انہیں طاقت کے زریعے روکا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مجلس عمل کے کارکن قوم کی بیٹیوں کی عزت و ناموس اور ان کا مقام جانتے ہیں اور اس کا دفاع کرنا بھی جانتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ کی اپنی اہلیہ اور بچیاں بھی مجلس عمل کی حامی ہیں اور ان کے ساتھ ہیں۔

اس سے پہلے منصورہ کے ہیڈ کوارٹرمیں مجلس عمل کی سپریم کونسل کا ایک اجلاس ہوا تھا جس میں حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

مولانا فضل الرحمان نے بتایاکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک جاری رہے گی اور اپریل اور مئی میں پنجاب میں کارواں چلائے جائیں گے جن کے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ میں اتوار کو میرا تھن کے موقع پر ہونے والے تصادم میں مجلس عمل کے جن کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے سولہ اپریل تک ان کے خلاف مقدمات واپس لیکر انہیں رہا نہ کیا گیا تو مجلس عمل کے زیر اہتمام گوجرانوالہ سے لاہور تک ایک ریلی نکالی جائے گی۔

اس اجلاس کے بعد سپریم کونسل کے اراکین مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں کیمپ جیل میں مجلس عمل کے قید کارکنوں سے ملاقات کرنے کے لیے آئے تھے۔

لیکن جیل کے عملے نے پہلے تو انہیں انتظار گاہ میں روکے رکھا پھر انہیں جھانسہ دیا کہ وہ واپس باہر جاکر مرکزی دروازے سے اندر آئیں مولانا فضل الرحمان دیگر قائدین لیاقت بلوچ ، حافظ حسین احمد،مولانا ابوالخیر،امیر العظیم،اعجاز احمد کے ہمراہ باہر نکل گئے تو پھرنہ تو مرکزی دروازہ کھولا گیا نہ انہیں واپس انتظار گاہ میں آنے دیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد