BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اولمپکس: پاکستان کی خاتون اوُل

ایتھنز میں شرکت کرنیوالی سمیرا ظہور ٹیلنٹڈ لڑکی ہے: شبانہ اختر
ایتھنز میں شرکت کرنیوالی سمیرا ظہور ٹیلنٹڈ لڑکی ہے: شبانہ اختر
'مجھے فخر ہے کہ میں پہلی پاکستانی خاتون ہوں جسے اولمپک گیمز میں شرکت کا موقع ملا۔‘ یہ الفاظ ہیں پاکستان کی مایہ ناز اتھلیٹ شبانہ اختر کے جو انیس سو چھیانوے کے اٹلانٹا المپک میں پاکستانی دستے میں شامل تھیں۔

پاکستانی پنجاب کے ضلع گجرانوالا کے ایک چھوٹے سے گاؤں تلونڈی موسیٰ خان کے ایک چھوٹے سے سکول سے اتھلیٹک شروع کرنے والی نو دس سال کی بچی اور اس کے سادہ لوح والدین نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ شبانہ امریکہ اولمپکس میں شرکت کرنے جائے گی۔

شبانہ کا کہنا کہ جب اس نے اپنے سکول میں اتھلیٹکس میں حصہ لینا شروع کیا تو اسے اور اس کے والدین کو یہ تک معلوم نہ تھا کہ اولمپکس کہتے کسے ہیں۔
شبانہ کہتی ہے کہ تیسری چوتھی جماعت میں اپنے سکول ہی میں دوڑ اور چھلانگ لگانے کے مقابلوں میں اس نے جب حصہ لینا شروع کیا تو اسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس مقابلوں کو اتھلیٹکس کہتے ہیں۔

کم عمری ہی میں سکولوں کے درمیان مقابلوں، پھر ضلعوں اور ڈویژنز کے درمیان اتھلیٹکس مقابلوں میں اپنے سے بڑی اور تجربہ کار لڑکیوں کو کم عمر شبانہ سے سخت مقابلہ ملا۔ لیکن جب انیس سر تراسی میں جب انٹر ڈسٹرکٹ مقابلوں میں شبانہ نے دو ایونٹ میں پہلی اور ایک میں دوسری پوزیشن لی تو اس کے اندر چھپے ہوئے گوہر کو ارباب اختیار نے بھانپ لیا۔

انیس سو اٹھاسی میں اتھلیٹکس کی قومی چمپیئن شپ میں پندرہ سال کی عمر میں کئي ایونٹ میں کانسی کے تمغے حاصل کیے جس کی بنا پر شبانہ کو انیس سو نواسی کے سیف گیمز کے کیمپ کے لیے منتخب کیا گیا۔

شبانہ کہتی ہے کہ یہی اس کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا کیونکہ اسی کیمپ سے اس نے صحیح معنوں میں اتھلیٹکس میں تربیت حاصل کی۔

ایتھنز سے امید
 آج کل ایتھنزمیں جاری اولمپکس میں شرکت کرنے والی اتھلیٹ سمیرا ظہور خاصی ٹیلنٹڈ لڑکی ہے اور مجھے امید ہے کہ پندرہ سو میڑ ریس میں سیف گیمز میں سلور میڈل لینے والی سمیرا اپنا ریکارڈ بہتر کرے گی۔
شبانہ اختر

شبانہ کے بقول اس نے ہمیشہ اپنی توجہ تربیت کی جانب مرکوز رکھی۔انیس سو نواسی کے سیف گیمز کے لیے لگنے والے کیمپ میں جب ساتھی لڑکیاں اس بات پر خوش ہوتی تھیں کہ انہیں پاکستان کا کلر ملنے والا ہے اور وہ پاکستان کا بلیزر پہنیں گیں تو وہ حیرانی سے ان کی باتیں سنتی تھی کہ آخر یہ کن چیزوں کا ذکر کر رہی ہیں۔

شبانہ اب بھی بڑی معصومیت سے کہتی ہے کہ اسے بہت بڑی بڑی کامیابیاں ملیں لیکن انجانے میں۔

سیف گيمز کا کیمپ گيمز کے بعد بھی جاری رہا جس میں شبانہ کو چینی کوچ سے تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اور پھر وہ وقت آیا کہ شبانہ نے سب کو حیران کر دیا۔ بنگلہ دیش میں انیس سو ترانوے کے سیف گیمز میں پہلی بار کسی پاکستانی خاتون نے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ شبانہ نے لونگ جمپ میں پاکستان کو یہ اعزاز دلایا۔

اسی کامیابی کی بناء پر شبانہ کو جرمنی میں ہونے والی ورلڈ اتھلیٹکس چمپئن شپ میں شرکت کے لیے منتخب کیا گیا۔

انیس سو پچانوے میں بھارت کے شہر مدراس میں ہونے والے سیف گیمز میں شبانہ نے ایک بار پھر سب کو ششدر کر دیا جب اس نے لانگ جمپ میں نہ صرف گولڈ میڈل لیا بلکہ نیا سیف ریکارڈ بھی بنایا۔ اس کی یہی کامیابی اسےانیس سو چھیانوے کے اٹلانٹا اولمپکس میں لے گئی۔

شبانہ کہتی ہے کہ اسے اب تک معلوم نہیں کہ وائلڈ کارڈ انٹری کس بلا کا نام ہے۔ اور اس کی اولمپکس میں شرکت وائلڈ کارڈ انٹری کی بدولت ہوئی۔ البتہ اسے اور اس کے خاندان کو اس کی بے پناہ خوشی تھی۔"میرےگاؤں اور آس پاس کے تمام گاؤں میں میرے چرچے تھے میرے گاؤں کے لوگ بھی مجھ پر فخر کر رہے تھے۔"

 شبانہ خود کو فٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اپنے ادارے پاکستان واپڈا کے لیے کم از کم قومی سطح کے مقابلوں میں پھر میڈلز کے ڈھیر لگائے۔
شبانہ خود کو فٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اپنے ادارے پاکستان واپڈا کے لیے کم از کم قومی سطح کے مقابلوں میں پھر میڈلز کے ڈھیر لگائے۔

امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں اولمپک کے لیے بنائے گئے گاؤں میں اپنے تجربات کی بابت شبانہ کا کہنا تھا کہ وہ دنیا ہی الگ تھی۔وہاں پوری دنیا سے آئے کھلاڑیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔اتھلیٹکس کے بڑے بڑے نام کہ جن کی ہم نے بس تصویریں ہی دیکھی تھیں انہیں اپنے سامنے دیکھ کر مجھ پر غیر یقینی کی کیفیت طاری تھی۔

شبانہ کہتی ہے کہ میں نے وہاں دیکھا کہ ترقی یافتہ دنیا کے لوگ اپنی اتھلیٹس خواتین کی کس طرح دیکھ بھال کرتے ہیں۔ شبانہ کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں نہ سہولتیں بین الاقوامی معیار کی ہیں نہ کوچنگ، لہذا ہم سے یہ امید کرنا کہ ہم اولمپکس جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں کہیں نظر آئیں گی بے سود ہے۔

شبانہ کہتی ہے کہ جب وہ امریکہ اولمپکس میں شرکت کرنے کے لیے گئی تو کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ مجھے وہاں ہی رہ جانا چاہیے لیکن میں نے کہا کہ مجھے جو عزت ملی ہے میں اسے گنوانا نہیں چاہتی۔

آج کل ایتھنزمیں جاری اولمپکس میں شرکت کرنے والی اتھلیٹ سمیرا ظہور کے بارے میں شبانہ کا کہنا تھا کہ وہ خاصی ٹیلنٹڈ لڑکی ہے اور مجھے امید ہے کہ پندرہ سو میڑ ریس میں سیف گیمز میں سلور میڈل لینے والی سمیرا ظہور اپنا ریکارڈ بہتر کرے گی۔ پاکستانی تیراک خاتون رباب رضا کی بابت شبانہ کا کہنا ہے کہ اس کو وہ جانتی نہیں بس صرف نیک خواہشات کا اظہار کر سکتی ہیں۔
شبانہ نے کہا کہ میري خواہش ہے کہ پاکستانی دستہ اولمپکس سے سر خ رو ہو کر آئے۔خاص طور پر پاکستان ہاکی میں گولڈ میڈل حاصل کرے۔

شبانہ نے قومی سطح پر بہت سے میڈلز حاصل کرنے کے علاوہ کئی نا ٹوٹنے والے ریکارڈ قائم کرنے کے بعد انیس سو اٹھانوے میں شادی کر لی، اس کے دو بچے ہیں۔ آج کل پھر شبانہ خود کو فٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اپنے ادارے پاکستان واپڈا کے لیے کم از کم قومی سطح کے مقابلوں میں پھر میڈلز کے ڈھیر لگائے۔

وہ اپنی اس کوشش میں کتنی کامیاب ہوتی ہے اور مزید کتنے ریکارڈ بناتی ہےمگر اولمپکس میں شرکت کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کا اعزاز ایسا ہے جو صرف اور صرف اسے ہی حاصل رہے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد