BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 August, 2004, 09:14 GMT 14:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اولمپکس ہاکی: توقعات و خدشات

ایتھنز اولمپکس میں بہتر کارکردگی کی امید
ایتھنز اولمپکس: بہتر کارکردگی کی امید
انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، اولمپکس مقابلے شروع ہوگئے ہرچار سال بعد دنیا بھر کی آنکھوں کو خیرہ کردینے والے ان اولمپکس میں پاکستان بھی شریک ہے۔ پاکستانی کھلاڑی باکسنگ، ایتھلیٹکس، شوٹنگ، تیراکی اور ہاکی میں حصہ لے رہے ہیں لیکن ان کھیلوں میں ہاکی ہی پاکستانی قوم کی بھرپور توجہ کا مرکز ہے۔

پاکستان ہاکی ٹیم15 اگست کو جرمنی کے خلاف سِخت مقابلے سے اپنی پیش قدمی شروع کررہی ہے جس میں اسے سیمی فائنل سے پہلے ہی مصر کے علاوہ جنوبی کوریا، برطانیہ اور اسپین جیسی مضبوط ٹیموں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اولمپکس ہاکی پاکستانی کھلاڑیوں اورخصوصا پاکستان ہاکی ٹیم کے ڈچ کوچ رولینٹ آلٹمینز کے لئے سخت امتحان ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پاکستان کے سابق اولمپئنز سے مایوس ہونے کے بعد قومی ٹیم کی کوچنگ کے لئے ہالینڈ کے رولینٹ آلٹمینز کی خدمات اس دعوے کے ساتھ حاصل کیں کہ وہ اولمپکس میں پاکستان ٹیم کو قابل ذکر مقام تک لے آئیں گے واضح رہے کہ رولینٹ آلٹمینز کی کوچنگ میں ہالینڈ کی ٹیم 1996 اولمپکس اور1998 کا عالمی کپ جیت چکی ہے۔

پاکستان ہاکی ٹیم نے رولینٹ آلٹمینز کے مرتب کردہ پروگرام کے تحت سخت اور طویل ٹریننگ کی ہے جس میں قومی تربیتی کیمپ کے علاوہ انگلینڈ، ہالینڈ، جرمنی اور اسپین میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں شرکت شامل ہے ان ٹورنامنٹس میں نتائج ملے جلے رہے جن کی بنیاد پر ڈچ کوچ نے یقینی طور پر اولمپکس کے لئے حتمی حکمت عملی تیار کرلی ہوگی۔

پاکستان کے ہاکی حلقوں میں اولمپکس میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی اور ڈچ کوچ کی صلاحیتوں کے بارے میں غیرمعمولی جوش و خروش نہیں پایا جاتا۔ ستر اور اسی کے عشروں کے برعکس جب پاکستان ٹیم شاندار کامیابیاں حاصل کرتی تھی اب فتح سے زیادہ شکست اور غیرمستقل مزاج کارکردگی کے نتیجے میں پاکستانی قوم کی جذباتی وابستگی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

پاکستان ہاکی ٹیم1994 کے بعد سے ورلڈ کپ نہیں جیت سکی ہے جبکہ1992 بارسلونا اولمپکس میں کانسی کے تمغے کے بعد سے وہ اولمپکس مقابلوں میں بھی پیچھے نظر آتی ہے۔

ایتھنز اولمپکس میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی کے بارے میں پاکستان کے سابق اولمپئنز ملی جلی رائے رکھتے ہیں۔ سابق کپتان اور کوچ حنیف خان ڈچ کوچ کی تقرری سے خوش نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن دعووں کے ساتھ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے انہیں کوچ بنایا ہے وہ پورے نہیں ہوئے اور ٹیم کی کارکردگی میں قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ہے۔ حنیف خان فارورڈز کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک سہیل عباس پر انحصار خطرناک ہوگا، فارورڈز کو اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنا ہوگا۔

سابق کپتان سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ جرمنی کے خلاف پہلا میچ پاکستان ٹیم کی سمت متعین کردے گا۔ وہ بھی سہیل عباس کو سب سے بڑا ہتھیار سمجھتے ہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فارورڈز کو گول کرنے کے ساتھ ساتھ سہیل عباس کے لئے گول کرنے کے مواقع پیدا کرنے ہونگے۔

1994ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کپتان شہبازاحمد کا خیال ہے کہ رولینٹ آلٹمینز کے آنے سے ٹیم کی کارکردگی میں مثبت تبدیلی آئی ہے اور ٹیم ورک کو اہمیت حاصل ہوئی ہے لیکن اسپین اور جرمنی جیسی سوپرفٹ ٹیموں کے خلاف پاکستان کو غیرمعمولی کارکردگی دکھانی ہوگی۔

اصلاح الدین بارسلونا اور سڈنی اولمپکس میں پاکستان ٹیم کے کوچ تھے۔ ان دونوں مواقع پر ٹیم کے نہ جیتنے کو وہ بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم گولڈ میڈل جیتنے کی اہلیت رکھتی ہے لیکن اس کے لئے مواقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔

اصلاح الدین کے خیال میں میڈرڈ سے ایتھنز تک ٹیم کی ملی جلی کارکردگی کے بعد آلٹمینز کی صلاحیتوں کا پتہ اب اولمپکس میں ہی چلے گا۔ فارورڈز کو گول کرکے سہیل عباس کو پریشر سے باہر رکھنا ہوگا اور ٹیم کو ہر میچ فائنل سمجھ کر کھیلنا ہوگا کیونکہ وہ ایک بھی پوائنٹ ضائع کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد