BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 August, 2004, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت : اولمپکس میں جیت کی امید

راجندر سنگھ
انڈیا کے ہاکی کوچ راجندر سنگھ 19 جولائی 2003 کو ملک لوٹے تو انہیں مداحوں نے ہوائی اّڈے ہی سے کاندھوں پر اٹھا لیا
ہندوستان کے اخبارات سے آج کل سچن تنڈولکر اور سورو گانگولی کے نام شہ سرخیوں سے غائب ہیں۔ اس کی وجہ ایشیا کپ کرکٹ کے فائنل میں بھارت کی شکست نہیں بلکہ اس ماہ کی تیرہ تاریخ سے یونان میں ہونے والے اولمپک گیمز ہیں۔

عام طور پر کرکٹ کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے چرچوں میں غرق رہنے والے اس ملک میں ایسا ہر چار سال کے بعد ہوتا ہے جب چند دنوں کے لیے یہ بحث چھڑتی ہے کہ آخر سو کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں کوئی اولمپک گولڈ میڈل کیوں نہیں حاصل کرتا؟ اولمپکس کی سو سالہ تاریخ میں بھارت نے ہاکی کے علاوہ دوسرے کھیلوں میں محض تین تمغے حاصل کیے ہیں اور یہ تمام تمغے کانسی کے ہیں۔

ہاکی میں بھارتی ٹیم نے آٹھ طلائی تمغے جیتے ہیں لیکن لوگ اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ دھیان چند جیسے زبردست کھلاڑی کی سرزمین پر پچھلے چوبیس سالوں سےاولمپک کا کوئی میڈل نہیں آیا۔

بھارت نے 1928 سے 1956 تک لگاتار چھ بار ہاکی کا طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اس دوران اس نے فائنل میں ہٹلر کی جرمن ٹیم کو 1936 میں آٹھ - ایک سے ہرایا۔ 1948 میں اپنے سابق حکمران ملک برطانیہ کو چار - صفر سے شکست دی۔ 1952 کے فائنل میں اس نے ہالینڈ کو چھ - ایک سے ہرایا۔ 1956 کے دل چسپ فائنل میں بھارت نے پاکستان کو ایک - صفر سے مات دی۔ لیکن اگلے ہی اولمپکس میں جو 1960 میں روم میں منعقد ہوئے پاکستان نے بھارت کو ہرا کر ہاکی کا اعزاز پھر اپنے نام کر لیا۔ اس کے بعد سے بھارت کی ہاکی ٹیم کا ریکارڈ ٹھیک نہ رہ سکا اور تین اولمپکس کے بعد ماسکو میں اس نے اپنا آٹھواں اور آخری طلائی تمغہ حاصل کیا۔ ماسکو اولمپکس میں پاکستان سمیت کئی امریکہ نواز ممالک نے حصہ نہیں لیا تھا۔

پہلوان
انڈیا کے معروف اداکار اور کھیلوں و نوجوانوں کے امور کے وزیر سنجے دت پہلوانوں کے دستے کو روانگی سے قبل روایتی پگڑی باندھ رہے ہیں

ہاکی کے علاوہ 1956 کے اولمپک میں بھارت نے پہلا تمغہ کشتی میں جیتا تھا جسے حاصل کیا تھا کھشابا جادھو نام کے پہلوان نے۔ اس کے چوالیس سال بعد بھارت نے اپنا دوسرا غیر ہاکی اولمپک تمغہ اس وقت جیتا جب آندرے اگاسی جیسے کھلاڑی سے سیمی فائنل میں ہارنے کے بعد یہ تمغہ لی اینڈر پیز نے برازیل کے فرنینڈو میلیگینی کو ہرا کر حاصل کیا تھا۔ اس کے چار سال بعد یعنی 2000 کے سڈنی اولمپکس میں بھارت کو کرنم ملیشوری نے ویٹ لفٹنگ میں کانسی کا تمغہ دلایا۔

ایتھنز اولمپکس کے لیے بھارت تقریباً پچھتر کھلاڑیوں کو مختلف کھیلوں میں مقابلے کے لیے بھیج رہا ہے۔ اولمپک میڈل کی تمنا لیے یونان جانے والے اس دستے میں سب سے بڑی تعداد ایتھلیٹوں کی ہے۔ اس کے بعد ہاکی ٹیم کے 16 کھلاڑی ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی کھلاڑی نشانہ بازی، کشتی، پیراندازی، مکے بازی، ویٹ لفٹنگ، ٹینس، بیڈمنٹن، جوڈو، تیراکی اور رونگ میں اپنی قسمت آزمائیں گے۔

بھارت کے لیے اولمپکس میں سب سے زیادہ میڈل حاصل کرنے والی ہاکی ٹیم کی کارگردگی کے حوالے سے ملک میں بہت زیادہ امید نہیں ہے۔ بھارتی ہاکی فیڈریشن کے صدر مسٹر کے پی ایس گل کا رویہ حالیہ دنوں میں کافی تنقید کا موجب بنا ہے۔

انجلی بھگوت
نشانہ بازی کی ماہر انجلی بھگوت کو ایتھنز اولمپکس کی تیاری کے دوران عالمی رینکنگ میں چوتھے نمبر پر رکھا گیا

تجربہ کار اسٹار فارورڈ دھن راج پلّئے کی ٹیم میں شمولیت تنازعہ کا شکار رہی ہے۔ اسی طرح چند روز قبل چیف کوچ راجندر سنگھ کی برخاستگی بھی موضوع بحث رہی ہے۔ ایسے میں بھارتی ٹیم اگر کوئی میڈل جیتتی ہے تو یہ مسٹر گل کی ذاتی کامیابی مانی جائےگی۔

ہاکی ٹیم کے برعکس بھارت میں خاتون کھلاڑیوں سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ شوٹنگ میں انجلی بھاگوت میڈل حاصل کرنے کی مضبوط دعویدار مانی جا رہی ہیں۔ سڈنی کے اولمپکس مقابلے میں انجلی فائنلسٹ تھیں۔ لانگ جمپ میں بھارت کو انجو جارج سے کافی توقعات ہیں۔ حال ہی میں انجو نے میڈرڈ گراں پری میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا ہے۔ سڈنی اولمپکس میں کانسے کا تمغہ حاصل کرنے والی ملیشوری اس بار اپنی کارکردگی بہتر کرنے کی غرض سے زور آزمائی کریں گی۔

ان کے ساتھ ویٹ لفٹر کنجورانی بھی میڈل حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہیں گی۔ بھارت کو ڈسکس تھرو میں نیلم جے سنگھ اور اپنی رلے ٹیم سے بھی میڈل حاصل کرنے کی امید ہے۔ بیڈمنٹن میں اپرنا پوپٹ بھی تمغہ حاصل کرنے کے لیے قسمت آزمانے یونان جا رہی ہیں۔

کرنام ملیشوری
انڈین ویٹ لفٹر کرنام ملیشوری ایتھنز روانگی سے قبل دہلی میں تربیت کے دوران

بھارتی اولمپکس ایسوسی ایشن کے جنرل سکرٹری رندھیر سنگھ ایتھنز اولمپک کے لیے بھارتی کھلاڑیوں کے دستے کو پچھلے چالیس سالوں میں سب سے مضبوط قرار دیتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ بھارت کو کم ازکم چار یا پانچ تمغے حاصل ہونے چاہئیں۔

اولمپک میں میڈل حاصل کرنے میں بھارت کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے لوگ یہ بات مذاق میں کہہ دیتے ہیں کہ اصل بات جیتنا نہیں مقابلوں میں حصہ لینا ہے کیونکہ اولمپکس کی سپرٹ یہی ہے۔ مگر کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ اولمپکس کی یہ سپرٹ بھارت جیسے وسیع ملک کے لیے خراب کارکردگی پر پردہ ڈالنے کا بہانہ نہ بن جائے۔ کھیلوں کے وزیر سنیل دت نے غالباً اس بات کا خیال کرتے ہوئے اولمپک میں حصہ لینے کے لیے جانے والے کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ سب سے اہم بات جیتنا ہے۔ ان کی اس توقع کا نتیجہ اس ماہ کے آخر تک سامنے آجائےگا۔

ویسے بھی ذرائع ابلاغ کو اولمپکس میں کامیابی کی خبر نہ ملنےکی صورت میں سچن، سہواگ اور گانگولی کی کہانی سنانے کا موقع آسانی سے مل جائےگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد