ایتھنز اولمپکس اور پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیرہ اگست سے شروع ہونے والے ایتھنز اولمپکس میں پاکستان پانچ کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے۔ اولمپکس مقابلے 13اگست کو رنگارنگ تقریب سے شروع ہونگے اور اولمپک مشعل 29 اگست کو بجھے گی۔ پاکستان جن کھیلوں میں شرکت کررہا ہے ان میں ہاکی، باکسنگ، تیراکی، شوٹنگ اور ایتھلیٹکس شامل ہیں۔ پاکستانی کھلاڑی بھرپور تیاری کے بعد اولمپکس کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔ قومی ہاکی ٹیم نے اولمپکس کی تیاری پروگرام کے تحت انگلینڈ، ہالینڈ جرمنی اور اسپین میں ہونے والے انٹرنیشنل ٹورنامنٹس میں شرکت کی اور ملے جلے نتائج کے بعد خامیوں اور خوبیوں پر نظر رکھتے ہوئے ڈچ کوچ رولینٹ آلٹمینز کی اصل آزمائش ایتھنز میں شروع ہوگی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر جنرل محمد عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم ایتھنز میں طلائی تمغہ جیت سکتی ہے یہ یقینا ہر پاکستانی کی خواہش ہے لیکن اس خواہش کی تکمیل اتنی آسان نہیں اس کے لئےگرین شرٹس پاکستان ٹیم کو غیرمعمولی کارکردگی کامظاہرہ کرنا ہوگا۔ اولمپکس میں پاکستان ٹیم کو اپنے پول میں جرمنی، جنوبی کوریا، برطانیہ اور اسپین جیسے سخت جاں حریفوں کا سامنا کرنا ہے جس کے بعد ہی وہ تمغے کی فیصلہ کن دوڑ میں شامل ہوسکےگی۔ پاکستان ہاکی ٹیم نے آخری بار 1992 کے بارسلونا اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا جس کے بعد 1996 کے اٹلا نٹا اولمپکس اور 2000 کے سڈنی اولمپکس میں وہ بالترتیب پانچویں اور چوتھے نمبر پر آئی تھی ۔ ایتھنز اولمپکس میں پاکستان ہاکی ٹیم کی کارکردگی بڑی حد تک پنالٹی کارنر ایکسپرٹ سہیل عباس پر انحصار کرے گی جن کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ جب گول کرتے ہیں تب ہی پاکستان ٹیم کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے۔ ہاکی کے بعد پاکستان کو باکسنگ میں اچھے نتائج کی توقع ہے لیکن باکسنگ میں پاکستانی تیاریوں کو اس کے سب سے قابل بھروسہ باکسر نعمان کریم پر عائد پابندی سے دھچکہ پہنچا ہے جو قوت بخش ادویات استعمال کرنے کی پاداش میں اولمپکس میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔پاکستان باکسنگ کی قد آور شخصیت پروفیسر انورچوہدری نے اعتراف کیا ہے کہ نعمان کریم پر پابندی سے دیگر باکسرز کا مورال بھی متاثر ہوا ہے۔ اولمپکس کے باکسنگ مقابلوں میں پاکستان کے پانچ باکسرز احمد علی، اصغرعلی شاہ، فیصل کریم، مہراللہ اور سہیل بلوچ حصہ لیں گے۔ ہاکی اور باکسنگ کے علاوہ دیگر تین کھیلوں میں پاکستان کی شرکت وائلڈ کارڈ کے ذریعے ممکن ہوسکی ہے۔ ایتھلیٹکس میں محمد ساجد اور سمیرا ظہور قومی مقابلوں میں عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر پاکستان کی نمائندگی کے لئے منتخب ہوئے ہیں۔ سمیرا ظہور اولمپکس میں حصہ لینے والی پاکستان کی تیسری خاتون ایتھلیٹ ہیں ان سے قبل شبانہ اختر اور شازیہ ہدایت اولمپکس میں شرکت کرچکی ہیں۔ تیراکی میں ممتاز احمد اور رباب رضا پاکستانی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔ رباب رضا اولمپکس کی تاریخ میں پاکستان کی پہلی خاتون تیراک ہیں۔ شوٹنگ مقابلوں میں خرم انعام پاکستان کی نمائندگی کرینگے۔ پاکستان کو ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں بھی حصہ لینا تھا لیکن بدقسمتی سے وائلڈ کارڈ نہ ملنے کے سبب کامن ویلتھ گیمز کے سلور میڈلسٹ محمد عرفان ایتھنز نہیں جاسکے۔ پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ارباب اختیار کا کہنا ہے کہ اولمپکس میں ہاکی اور باکسنگ کے سوا دیگر کھیلوں میں تمغے کی امید نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں اس عالمی مقابلے میں شرکت سے دور رکھا جائے وہ اولمپکس میں شرکت سے کچھ نہ کچھ تجربہ ضرور حاصل کریں گے جس سے انہیں ایشین گیمز اور سیف گیمز کی تیاری میں بڑی مدد ملے گی |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||