ہاکی: پاکستان اولمپکس کے لیے کتنا تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بدھ کو المپکس کے لیے پاکستان کی ہاکی ٹیم کے سولہ کھلاڑیوں کا اعلان کر دیا اور پاکستان ٹیم کے ڈچ کوچ رولینٹ اولٹمنس نے ٹیم کو دستیاب کھلاڑیوں میں سے بہترین ٹیم قرار دیتے ہوئے اسے تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا ایک اچھا امتزاج کہا۔ البتہ اس ٹیم میں نہ تو پاکستان ٹیم کے سابق کپتان تجربہ کار کھلاڑی محمد سرور شامل ہیں اور نہ نوجوان کھلاڑی عمران خان جگہ پا سکے جنہیں خاص طور پر جونئر سائیڈ سے سینئرز کے کیمپ میں بلایا گیا تھا۔ ڈچ کوچ کے مطابق محمد سرور یورپ کے دورے کے دوران غیر متاثر کن کھیل کی بناء پر ٹیم میں جگہ نہ پا سکے جبکہ عمران ابھی اتنے بڑے ٹورنامنٹ کے لیے تیار نہیں۔ یہ دونوں کھلاڑی المپکس سے پہلے سپین میں میچز کھیلیں گے اور ایتھنز جانے کی بجائے وطن واپس آ جائیں گے۔ پاکستان کے ایک اور بہترین کھلاڑی سینٹر ہاف محمد ثقلین کو پاکستان ہاکی فیڈریشن نے برے رویے کی بنا پر یورپ کے دورے سے پہلے ہی کیمپ سے نکال دیا تھا اور جس کی کمی دورے کے دوران محسوس ہوئی۔ ثقلین کی معافی کے باوجود انہیں المپکس کے لیے نہیں رکھا گیا۔ جبکہ ان کی پوزیشن پر کھیلنے والے کھلاڑی یورپی دورے میں خود کو اس جگہ بہتر ثابت نہ کر پائے۔ ثقلین نے ایک سو ستتر بین الاقوامی میچز کھیلے ہیں جبکہ ان کی جگہ آنے والے دلاور حسین اور دیگر کا تجربہ کچھ بھی نہیں۔ پاکستان کو المپکس گیمز میں سے اگر کسی تمغے کی امید ہوتی ہے تو وہ ہاکی ہی سے ہوتی ہے۔ المپکس کھیلوں میں اگرچہ پاکستان نے ہاکی میں 1960،1968،اور 1984 میں گولڈ میڈلز کے علاوہ سلور میڈلز بھی حاصل کیے ہیں تاہم کچھ برسوں سے پاکستان کی ہاکی کا گراف نیچے کی جانب جا رہا ہے۔ پاکستان کا آخری المپک ہاکی میں میڈل کانسی کا ہے جو اس نے 1992 میں حاصل کیا تھا۔اور ایک وقت تو یہ معیار اتنا گر گیا کہ 1998 میں وہ اپنا ایشیائی اعزاز بھی گنوا بیٹھا۔ سنہ 2000 میں سڈنی میں ہونے والے گزشتہ المپکس میں پاکستان کی پوزیشن چوتھی تھی۔ پاکستانی ہاکی کے اس گرتے ہوئے معیار کو بلند کرنے کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بہت سے اقدامات کیے جیسا کہ ٹیم کو باہر کے ٹور کرائے گئے اور غیر ملکیوں کوگول کیپنگ اور فزیو تھراپی کا کوچ بنایا گیا۔ ڈچ کوچ رولینٹ اولٹمنس کی تقرری بھی انہی اقدامات کا حصہ ہے۔ ان تمام سہولتوں کے باوجود پاکستانی ٹیم المپکس کی تیاری کے لیے یورپی دورے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی۔ یورپی دورے میں ناکامی کے باوجود پاکستان ہاکی کے اہلکار ایتھنز المپکس میں گولڈ میڈل کے دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں لاہور میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری بریگیڈیر مسرت اللہ خان اور پاکستان کے اسٹٹنٹ کوچ طاہر زمان نے کہا کہ پاکستان المپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرے گا اور یورپ کے دورے کے دوران ہونے والی خامیوں کو دور کیا جائے گا۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان کے ڈچ کوچ نے المپکس کی تیاری کے لیے ملنے والے وقت کو بہت کم قرار دیا۔ ڈچ کوچ کا کہنا تھا کہ اگرچہ وقت کم ہے لیکن وہ پھر بھی المپکس میں ٹیم کی کارکردگی کی تمام ذمہ داری لیں گے۔ ڈچ کوچ نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی غیر مستقل مزاجی اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے جو المپکس میں نتائج پر اثر انداز ہو گی۔ انہوں نے کہا ٹیم میں غیر مستقل مزاجی، قیادت کی کمی اور کمیونیکیشن گیپ بھی منفی عوامل ہیں۔ رولینٹ اولٹمنس کے مطابق ’پاکستان کا پول خاصا سخت ہے جس میں عالمی چمپئن جرمنی بھی ہے۔ اس کے علاوہ اس پول میں سپین برطانیہ اور جنوبی کوریا جیسی بہترین ٹیمیں شامل ہیں اور ایسی ٹیموں کے مقابلے میں کوئی کوچ گولڈ میڈل کی گارنٹی نہیں دے سکتا‘۔ یاد رہے کہ پاکستان نے یورپی ٹور میں جرمنی سے چھ صفر سے شکست کھائی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||