ایشیائی ٹیموں کے غیر ایشیائی کوچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہاکی کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ اس فن کو ایشیا نے جلا بخشی لیکن اس سے اب تورپی اقوام فائدہ اٹھارہی ہیں اسی طرح کرکٹ میں بھی ایشیائی ٹیمیں غیرملکی ماہرین کی اسیر ہوچکی ہیں ۔ جمعہ سے شروع ہونے والے ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کی شریک ٹیموں پر نظر ڈالیں تو تمام چھ ٹیموں کے کوچ ان کے اپنے نہیں ہیں۔ ان میں متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ کو اس لئے اہمیت نہیں دی جاسکتی کہ انہوں نے اپنی کرکٹ باہر کی دنیا سے ہی سیکھی ہے اور غیرملکی کوچز سے تربیت کی راہ اپنائی ہے لیکن چار بڑی ٹیمیں پاکستان، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش اس وقت کوچنگ اور ٹریننگ میں مکمل طور پر سفید فام ماہرین کے زیراثر ہیں۔ پاکستان نے حال ہی میں جاوید میانداد
پاکستان کرکٹ ٹیم باب وولمر کے کوچنگ فلسفے اور تربیت کے انداز سے خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اس ٹریننگ کے دور رس نتائج برآمد ہونگے ۔ بھارت دسمبر سن 2000 سے نیوزی لینڈ کے جان رائٹ کو کوچ بنائے ہوئے ہے ساتھ ہی جنوبی افریقہ کے اینڈریو لیپس فزیو تھراپسٹ اور گریگوری ایلن کنگ ٹرینر کی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں۔ سری لنکا نے1999 کے ورلڈ کپ کی ہزیمت کے بعد سری لنکن نژاد آُسٹریلوی ٹیسٹ کرکٹر ڈیو واٹمور کی خدمات حاصل کیں اور بڑی اہم کامیابیاں سمیٹیں ان کی جگہ اب ایک اور آسٹریلوی جان ڈائی سن ٹیم کے کوچ ہیں جبکہ الیکس کونٹوری ٹرینر ہیں۔ بنگلہ دیش نے ڈیو واٹمور کو کوچ مقرر کرنے کے بعد بہتر کارکردگی دکھائی ہے جبکہ ٹیم کی ٹریننگ اور فٹنس کے معاملات آسٹریلیا کے جان گلوسٹر نے سنبھالے ہوئے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات کی ٹیم عابد علی اور ہانگ کانگ کی ٹیم رابن سنگھ کی نگرانی میں اپنا سفر طے کررہی ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||