یہ ایک صدی کا قصہ ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہاتھوں کی لکیریں قسمت کا پتہ دیتی ہیں تو چہرے کی جھریوں میں گئے دنوں کا عکس جھلکتا ہے اور چہرہ بھی وہ جو کچھ کہے بغیر پوری تاریخ بیان کردے ۔ ایسا ہی چہرہ ماضی کے ہاکی اولمپئن فیروز خان کا ہے جس پر برصغیر کی ہاکی تاریخ صاف پڑھی جاسکتی ہے ۔ فیروز خان پر یہ مقولہ صادق آتا ہے یہ نصف صدی کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں۔ فیروزخان اس سال 9 ستمبر کو 100 برس کے ہوجائیں گے۔ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اس وقت دوسرے معمرترین حیات اولمپئن ہیں۔ سب سے عمر رسیدہ اولمپئن امریکہ کے جیمز ایس راک فیلر ہیں جو 8 جون 1902 کو پیدا ہوئے تھے یعنی وہ اسوقت 102 سال کے ہیں۔ جیمز ایس راک فیلر نے 1924 کے پیرس اولمپکس میں روئنگ مقابلوں میں حصہ لیا تھا اور گولڈ میڈل جیتا تھا۔ فیروز خان کی پیدائش 9 ستمبر 1904 کی ہے۔ اس عمر میں انسان کے حواس جواب دے جاتے ہیں حافظہ کام نہیں کرتا لیکن فیروز خان 99 سال کی عمر میں بھی جسمانی اور ذہنی اعتبار سے چاق و چوبند ہیں وہ نہ یاد ماضی کو عذاب سمجھتے ہیں اور نہ حافظہ چھین لینے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے پاس یادوں کا بیش قیمت خزانہ ہے جب وہ ماضی کویاد کرتے ہیں توسننے والا الف لیلی کی داستان کی طرح ان کے سحر میں کھوجاتا ہے۔ فیروز خان نے 1928 کے ایمسٹرڈیم اولمپکس میں غیرمنقسم ہندوستان کی ہاکی ٹیم کی نمائندگی کی تھی انہیں یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اولمپکس میں شرکت کرنے والے پہلے مسلمان کھلاڑی ہیں ۔ غیرمنقسم ہندوستان کی ہاکی ٹیم نے 1928 اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا وہ یادگار تمغہ فیروزخان نے آج تک سنبھال کر رکھا ہے اس چمکتے تمغے کے ساتھ ان کے پاس ایمسٹرڈیم اولمپکس کا یادگاری نشان بھی ہے۔ فیروز خان سے جب میں نے پوچھا کہ اس طویل عمر کا راز کیا ہے تو ان کا جواب تھا” اللہ کے فضل وکرم سے انہوں نے سادہ زندگی گزاری ، شراب تمباکو اور رات گئے شغل سے دور رہے ورزشیں خوب کیں اور سادہ غذا کھائی ماش کی دال ان کی پسندیہ ڈش رہی ، 55 سال کی عمر میں ٹینس شروع کی اور اپنے داماد سابق ٹیسٹ کرکٹر ابراہیم غزالی کے ساتھ کھیلتے رہے ۔ فیروزخان کو اس بات کا افسوس ہے کہ ان کے بڑے صاحبزادے ائرچیف مارشل ( ریٹائرڈ) فاروق فیروز خان کھلاڑی نہ بن سکے اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ان کے بیٹے صدر میں واقع اسکول میں پڑھتے تھے جبکہ رہائش کیماڑی میں تھی اس زمانے میں وہاں تک صرف ایک بس اور ایک ٹرام چلتی تھی وہ صبح اسکول جاتے اور اندھیرا ہونے سے قبل انہیں گھر پہنچنا ہوتا تھا لہذا وہ اسکول کے اوقات کے بعد ہاکی نہیں کھیل سکتے تھے ۔چھوٹے بیٹے نے آرمی میں ہاکی کھیلی ہے ۔ فیروزخان اب بھی اخبارات اور کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور شام ہوتے ہی ٹی وی دیکھ کر حالات حاضرہ سے باخبر رہتے ہیں لیکن 1964 کے ٹوکیو اولمپکس کے بعد سے انہوں نے ہاکی سے قطع تعلق کررکھا ہے البتہ حالیہ ایشیا کپ جونیئر ہاکی ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میں وہ دکھائی دیئے تھے تاہم انہیں تشہیر بالکل پسند نہیں اسی لیے خاموش لیکن مطمئن زندگی گزار رہے ہیں ۔ فیروز خان کہتے ہیں کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کو ان کی نواسی کے شوہر تسنیم نورانی کے توسط سے پتہ چلا کہ 1928 اولمپکس کا ایک کھلاڑی زندہ ہے جس کے بعد اس نے انہیں ان کی 99 ویں سالگرہ پر مبارک باد کا خط بھیجا اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے انہیں یادگاری شیلڈ پیش کی لیکن فیروزخان اس بات کے لیے تیار نہیں کہ اگر آئی او سی انہیں ایتھنز اولمپکس کے لئے مدعو کرتی ہے تو وہ وہاں جائیں گے۔ اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ گھٹنے جواب دے گئے ہیں انہیں یہ پسند نہیں کہ وہیل چیئر پر انہیں کسی تقریب میں لایا جائے انہیں غرور نہیں لیکن انا کو ٹھیس نہیں پہنچنے دیتے ۔ فیروز خان صرف ایک اولمپکس میں حصہ لینے کے بارے میں کہتے ہیں کہ دھیان چند صرف سینٹر فارورڈ کی پوزیشن پر ہی کھیل سکتا تھا جبکہ وہ دوسری پوزیشن پر بھی کھیل سکتے تھے دھیان چند کو ٹیم میں لانے کے لیے سلیکٹرز نے ان سے درخواست کی کہ وہ رائٹ ان پر کھیل کر ان کی مشکل دور کردیں لہذا انہوں نے ایمسٹرڈیم اولمپکس میں رائٹ ان کی پوزیشن پر شرکت کی ۔ فیروزخان کا کہنا ہے کہ 1932 کے لاس اینجلز اولمپکس میں بھی ٹرائلز میں انہوں نے سینٹر فارورڈ کی پوزیشن پر عمدہ کارکردگی دکھائی لیکن حیرت کی انتہا نہ رہی جب دھیان چند کو ٹرائلزمیں نہ آنے کے باوجود ہندو اکثریت سلیکشن کمیٹی نے ہندوستانی ٹیم میں شامل کرلیا گیا اور وہ ٹیم میں جگہ نہ بناسکے ۔ دھیان چند کیا واقعی جادوگر تھے؟ اس سوال کے جواب میں فیروز خان کہتے ہیں کہ ہندوستانی میڈیا کی ہمیشہ سے یہ خوبی اس نے ہرطرف ٹنڈولکر کا چرچا کررکھا ہے ان کے زمانے میں بھی ایک صحافی نے انہیں’ وزرڈ ‘ کہہ کر پکارا تھا لیکن ہندو پریس نے جب دھیان چند کے بارے میں یہ لفظ لکھا تو اس کے چرچے ہر طرف کئےگئے۔ دھیان چند ایک ورلڈ کلاس کھلاڑی ضرور تھےلیکن ان کا کھیل دوسروں کا طلبگار تھا ۔ میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے سینٹرلائن سے گیند لی ہو اور گول تک گئے ہوں ۔ فیروز خان آج کی ہاکی کو ہاکی نہیں سمجھتے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ساکر( فٹبال) کے امتزاج سے یہ ساکی ہوکر رہ گئی ہے چھوٹے چھوٹے پاسز کی بجائے اب صرف لمبی لمبی ہٹ مارنے کا رواج عام ہوچکا ہے ہاکی گالف اسٹک بن چکی ہے اور ہٹ گالف کی ہٹ لگتی ہے ۔ فیروز خان آج کی ہاکی نہیں دیکھتے لیکن جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو شکست ہوگئی ہے تو ایک درد مند پاکستانی ہونے کے ناتے انہیں بہت تکلیف ہوتی ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||