BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 July, 2004, 21:04 GMT 02:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اولمپک کی تیاریاں: 14ہلاک
اولمپک
کھیلوں کی تیاری میں اموات یونان کے لیے پریشانی
اگلے ماہ ایتھنز میں ہونے والے اولمپک کھیلوں کے لیے سہولتوں کی تعمیر میں ناقص حفاظتی انتظامات کی وجہ سے چودہ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بی بی سی کی ایک ریڈیو رپورٹ میں یونان کی یونین کے نمائیندے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سرکاری اعداد وشمار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم اس نے یہ بھی بتایا کہ تعمیراتی کاموں میں ہونے والے افراد کے کوئی باقاعدہ اعداد وشمار نہیں رکھے جارہے۔

بی بی سی کی ٹیم نے بہت سے کارکنوں کو بغیر حفاظتی آلات کے کام کرتے دیکھا۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق مشرقی یورپ اور جنوبی ایشیا سے تھا۔

بی بی سی ریڈیو کے پروگرام ’فیس دی فیکٹس‘ میں یونانی اولمپک کمیٹی کے صدر لامپس نکولاؤ نے اعتراف کیا کہ ان کھیلوں میں کارکنوں کی شرح اموات پچھلے کچھ اولمپک کھیلوں میں ہونے والی شرح اموات سے کہیں زیادہ ہے۔ سڈنی میں ہونے والے کھیلوں میں ایک جبکہ بارسلونا میں دو افراد سہولتوں کی تعمیر کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے ان کی موت کا بےحد افسوس ہے لیکن ہر ملک میں، ہر کام کی جگہ پر حادثات ہوتے ہیں اور لوگ مرتے ہیں‘۔

بی بی سی کی ٹیم نے انتالیس نئے زیر تعمیر مقامات دیکھے جہاں پر کارکن بغیر حفاظتی آلات، کپڑےاور غیر منظم کام کرتے پائے گئے۔

ایک برطانوی حفاظتی ماہر جس نے ٹیم کے ساتھ ان مقامات کو دیکھا کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ایسے مقامات پر کام کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے۔

جب اولمپک کھیلوں کے سیکرٹری جنرل سپائرس کپرالوس سے پوچھا گیا اب تک کتنے افراد ہلاک ہو چکے ہیں تو انہوں نے اعتراف کیا کہ اس بارے میں انہیں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا ’ہم نے تمام مناسب اقدامات اٹھائے ہیں کہ کھیلوں کی تیاری میں حادثات نہ ہوں‘۔

گریک کنسٹرکشن ورکرز یونین کے سیکرٹری جارج تھیوڈرو نے پروگرام کو بتایا کہ انہوں نے ابھی تک چودہ افراد کے نام اکھٹے کیے ہیں جو سہولتوں کی تعمیر کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ درحقیقت شرح اموات اس سے کہیں زیادہ ہے۔

یونان کے حزب اختلاف کے ایک ممبر نے بتایا کہ ان کھیلوں کی تیاری کے لیے یونان کے پاس سات سال کا وقت تھا لیکن زیادہ تر وقت قانوتی لڑائیوں میں صرف ہوگیا۔ انہوں نے کہا ’یہ ایک یونانی سانحہ ہے جس کا سامنا انہیں کھیلوں کے بعد رہے گا‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد