سخت سکیورٹی میں اولمپک کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں اٹھائیسویں اولمپک کھیلوں کا آغاز ہو گیا جس میں دو سو دو ممالک سے تعلق رکھنےوالے دس ہزار پانچ سو کھلاڑی حصہ لیں گے۔ جمعہ کی رات کو شروع ہونے والی اولمپک میں دنیا بھر کے کھلاڑی اٹھائیس کھیلوں میں حصہ لیں جو اڑتیس مختلف مقامات پر منعقد ہو رہے ہیں۔ یونان کے لیے جو قدیم اور جدید اولمپک کھیلوں کا بانی ہے اولمپک کا آغاز کسی حد تک غیر متوقع رہا۔ اس کے دو ایتھلیٹوں پر ممنوعہ ادویات کا الزام ہے اور ان کی کھیلوں میں شرکت پر پابندی کا امکان ہے۔ یونان میں سات سو چھہتر قبل مسیح میں قدیم اولمپک کھیل ہوئے تھے اور اس
اٹھائیسویں اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب دیکھنے کے لیے بہتر ہزار شائقین موجود ہیں اور یہ تقریب دنیا بھر میں تقریباً چار ارب لوگوں نے ٹیلی ویژن پر دیکھی۔ افتتاحی تقریب کے لیے مختلف رنگا رنگ پروگرام ترتیب دیئے گئے جن میں نو ہزار فنکاروں لے رہے ہیں۔ ان اولمپک مقابلوں کی ایک خاص بات زبردست حفاظتی انتظامات ہیں جن پر ایک عشاریہ دو ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔ یہ رقم سن دو ہزار میں سڈنی میں ہونے والے کھیلوں سے تین گنا زیادہ ہے۔ شمالی بحیرہ اوقیانوس کے ممالک کی تنظیم نیٹو کے فوجی بھی حفاظتی انتظامات کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ ہوائی جہاز کے ذریعے حملے کو روکنے کے لیے پیٹریاٹ میزائل نصب ہیں اور شہر بھر میں خفیہ کیمرے نصب ہیں۔ ان حفاظتی انتظامات میں ستّر ہزار افراد حصہ لے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||