BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 August, 2004, 00:24 GMT 05:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایتھنزاولمپکس: سخت سیکیورٹی

ایتھنز
جدید اولمپکس میزبان 1896 کا ایتھنز
اب ایک سو آٹھ سال قبل جدید اولمپکس کھیلوں کا آغاز یونا کے دارالحکومت ایتھنز میں ہوا تھا اور اب ایک سو آٹھ سال کے بعد کھیلوں کے سب سے بڑے اس میلے کا انعقاد ایک بار پھر اس تاریخی شہر میں ہو رہا ہے۔

تاہم جدید اور قدیم اولمپکس کے درمیان فرق کو دیکھنے اور محسوس کرنے والا شاید آج کوئی بھی بقید حیات نہیں ہو گا لیکن اس فرق سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اس سال کے اولمپکس میں جو سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں ان کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

ایتھنز ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی اس بات کا اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ یہ شہر اولمپکس کھیلوں کی میزبانی کر رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات واضح ہونے بھی زیادہ دیر نہیں لگتی کہ یہ شہر اولمپکس کا میزبان کم اور جنگ کا میدان زیادہ نظر آتا ہے۔

اور آخر ایسا کیوں نہ لگے۔ خود منتظمین کے الفاظ میں اس بار دنیا بھر کے ساڑھے دس ہزار کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے ستر ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو تعنیات کیا گیا ہے۔ یعنی اس مرتبہ ایک کھلاڑی کی حفاظت پر سات اہلکار دکھائی دیں گے۔

ستر ہزار کی اس تعداد میں وہ امریکی اور برطانوی فوجی شامل نہیں ہیں جنہیں اپنے اسلحہ سمیت یونان آنے کی اجازت دی گئی ہے۔

خواہ اولمپکس گاؤں ہو یا پھر پریس سنٹر، ایتھنز میں اولمپکس کے تمام اہم مقامات پر لوگوں کی میٹل ڈیٹیکٹر سے تلاشی لی جا رہی ہے اور ان میں ذرائع ابلاغ کے نمائندے ہی نہیں خود کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

ظاہر ہے منتظمین اس مرتبہ کوئی بھی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے۔

کھیل کے دوران شدت پسند عناصر کہیں میزائلوں سے حملہ نہ کریں، اس کے لئے ایتھنز کے تین حصوں میں امریکی میزائل شکن پیٹریئٹ میزائل نصب کئے گئے ہیں۔

ایتھنز
ایتھنز میں جدید تر حفاظتی آلات بھی استعمال کیے جا رہے ہیں

علاوہ ازیں ایتھنز کی فضا میں ہر وقت زیپلن ائیرشپ نامی طیارہ پرواز کر رہا ہے جس کے بارے میں یونانی حکام کہتے ہیں کہ یہ اپنے سیٹلائیٹ کی مدد سے اولمپکس کے دوران ہر نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے۔

ادھر نیٹو کے دو ممالک چیک جمہوریہ اور ہنگری نے جوہری اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے اپنے سو ماہرین کی ٹیم بھی یونان بھیجنے کا فیصلہ کیا جو اینتھریکس سے حملے کی فوراً نشاندہی کر کے مناسب کارروائی کرنے کے اہل ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد