اولمپکس اور مسلم خواتین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ ہی ایتھنز کا شہر تھا، اور زمانہ تھا اٹھارہ سو چھیانوے کا یعنی اب سے ٹھیک ایک سو آٹھ برس قبل جب ماڈرن اولمپکس کا آغاز ہوا۔ کہنے کو تو یہ ماڈرن تھے مگر اتنے بھی نہیں۔ کیونکہ ان کھیلوں میں عورتوں کو شرکت کی اجازت نہ تھی۔ یہ اور بات ہے کہ چار سال بعد یعنی سن انیس سو میں پہلی بار ٹینس اور گالف کے مقابلوں میں کچھ خواتین کھلاڑیوں کو شرکت کی اجازت ملی۔ کہتے ہیں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ یہی ایتھنز کا شہر ہے جہاں اس وقت دنیا کے ایک سو ننانوے ملکوں کے دس ہزار سے زیادہ ایتھلیٹس جمع ہیں اور ان میں خواتین کی تعداد سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے۔ افغانستان جیسے روایتی معاشرے کی ایک ایتھلیٹ روبینہ مقیم یار بھی اس عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہیں، ’میرے لیے سب سے اہم بات اولمپکس میں حصہ لینا ہے۔ میں اس لیے ان کھیلوں میں شریک ہو رہی ہوں کہ لوگوں کو پتہ چلے کہ افغانستان بھی مقابلے میں ہے۔ جب لوگ افغان پرچم کو اولمپکس میں لہراتا دیکھیں گے تو میرا سر فخر سے اونچا ہو جائے گا۔‘ روبینہ اپنی ایک اور ہم وطن فریبہ ریاضی کے ساتھ ایک سو میٹر کی دوڑ میں شریک ہو رہی ہیں۔ جدید دنیا سے تو کئی خواتین ایتھلیٹس اولمپکس میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔ لیکن مسلم خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ انڈونیشیا، تاجکستان اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی کئی مسلم ایتھلیٹس مختلف اوقات میں اچھی کارکردگی دکھا کر سونے اور کانسی کے تمغے حاصل کر چکی ہیں لیکن اپنے ملکوں میں سب کو پذیرائی نہیں مل سکی۔ سن بانوے میں الجزائر کی حسیبہ کے مختصر لباس پر تنقید کی گئی حالانکہ انہوں نے پندرہ سو میٹر کی ریس میں سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ لیکن اب کئی کھیل ایسے ہیں جہاں مغربی خواتین بھی مکمل لباس کو ترجیح دیتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ان کا کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک لباس پیراکی یا سویمنگ کا ہے۔ ایتھنز میں پیراکی کے مقابلوں میں حصہ لینے والی پاکستان کی سویمر رباب رضا کہتی ہیں کہ اس لباس سے پانی کی مزاحمت کم ہوجاتی ہے اور پیراک بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے عبدالخالق کہتے ہیں کہ حکومت اور کھیلوں کی تنظیموں کی طرف سے کسی قسم کا ڈریس کوڈ مقرر نہیں ہے بلکہ یہ کھلاڑی کی ذاتی پسند ناپسند پر منحصر ہوتا ہے۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ مسلم ملکوں میں دوسرے شعبوں کی طرح کھیلوں میں بھی خواتین سے جنس کی بنیاد پر امتیاز برتا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک ناقد لِنڈا کرو ایل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسے ملکوں کے خلاف پابندیاں عائد کی جانی چاہیئں۔ آخر نسلی امتیاز کی بنیاد پر جنوبی افریقہ کے خلاف بھی تو اٹھائس سال تک پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اولمپکس میں خواتین کی شرکت ہر سال پہلے سے بڑھ رہی ہے اور اس سال صرف چار یا پانچ ملک ایسے ہیں جہنوں نے کوئی خاتون ایتھلیٹ نہیں بھیجی ہے۔ افغان ایتھلیٹ روبینہ مقیم یار کی طرح بہت سی مسلم ایتھلیٹس کوئی میڈل تو شاید حاصل نہ کر سکیں لیکن وہ اپنے ہم وطنوں کو یہ یاد دہانی ضرور کروا سکیں گی کہ جیت ہی سب کچھ نہیں، اپنی موجودگی کا احساس دلانا خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||