BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 June, 2004, 10:59 GMT 15:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی تیراک اولمپکس میں

رباب رضا
پاکستان کی پہلی تیراک جو اولمپکس میں حصہ لیں گی
رباب رضا اولمپکس مقابلوں میں شرکت کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون تیراک ہوں گی۔

وہ تیرہ سے انتیس اگست تک ہونے والے ایتھنز اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔

اگرچہ پاکستان میں خواتین سوئمرز میں کرن خان کا نام زیادہ مقبول ہے اور مارچ۔اپریل میں پاکستان میں ہونے والے نویں سیف گیمز میں کرن خان کے میڈلز رباب رضا سے زیادہ تھے تاہم قسمت نے ساتھ رباب دیا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سال بارسلونا میں ہونے والی تیراکی کی عالمی چمپئن شپ میں رباب رضا کی پوزیشن کرن خان سے بہتر تھی۔ جن ایونٹس میں رباب نے حصہ لیا تھا ان میں رباب نے کرن خان کی نسبت زیادہ سوئمرز کو پیچھے چھوڑا تھا جس کی وجہ سے رباب کی عالمی رینکنگ بہتر ہو گئی تھی۔

تیراکی کی عالمی فیڈریشن نے اسی بناء پر رباب کو کرن پر فوقیت دی اور یوں ایتھنز المپکس میں شرکت کا وائلڈ کارڈ انہیں ملا۔

تیرہ سالہ رباب رضا نے چھ سال کی عمر میں تیراکی کا آغاز کیا تھا۔ وہ ایتھنز المپکس میں شرکت کرنے پر بہت خوش ہیں اور اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتی ہیں۔

سیف گیمز کی سلور اور برونز میڈلسٹ رباب رضا تین گھنٹے صبح اور تین گھنٹے شام کو پول پر اپنے ذاتی کوچ منور لقمان سے تربیت حاصل کرنے کے ساتھ باقی وقت ویٹ ٹریننگ اور دوسری جسمانی ورزشیں کرتی ہیں۔

جیسز اینڈ میری کانونٹ سکول کی نویں کلاس کی طالبہ کھیل کے ساتھ تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دیتی ہیں لیکن تیراکی کو اپنا شوق ہی نہیں ’پیشن‘ قرار دیتی ہیں۔

ایتھنز المپکس کے لیے رباب کا کہنا ہے کہ وہ ہیٹس میں بہتر کارکردگي دکھانے کی کوشش کریں گي اور اپنی ذاتی ٹائمنگ کو بہتر کریں گی۔ان کے بقول دنیا میں کئی ممالک تیراکی میں ان سے پیچھے ہیں۔

’بھارت کی تیراک تو خیر بہتر ہیں لیکن سری لنکا اور بنگلادیش کی خواتین کو تو ہرایا ہی جا سکتا ہے۔‘

المپکس کے لیے پہلی پاکستانی خاتون تیراک کا اعزاز حاصل کرنے والی رباب رضا کہتی ہیں کہ ایسے بڑے مقابلے میں شرکت کے لیے ضروری تھا کہ انہیں بیرون ملک تربیت کے لیے بھیجا جاتا۔

رباب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرن خان اور ثناء واحد جیسی اور بھی اچھی سوئمرز ہیں ’اور اگر ہم سب کو کوالیفائڈ کوچز سے تربیت کرائی جائے اور بیرون ملک بھیجا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم بھارتی سوئمرز کو پیچھے نہ چھوڑ سکیں‘۔

رباب رضا کو اس کے والدین نے پاکستان سوئمنگ فیڈریشن کی پیشکش پر اسلام آباد میں تربیت کے لیے نہیں بھیجا کیونکہ وہ اپنی نگرانی میں اپنی بیٹی کی تربیت کروانا چاھتے تھے۔

رباب کے والد یا والدہ میں سے کوئی ایک ان کے ساتھ سوئمنگ پول جاتا ہے اور تمام وقت اپنی بیٹی کو ٹریننگ کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔

رباب کی والدہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں ماحول اور لوگوں کی سوچ کی وجہ سے ’ہمیں اپنی بیٹی کے ساتھ ساتھ رہنا پڑتا ہے‘۔ رباب کی والدہ کو، جو کہ آرمی میں میجر ڈاکٹر تھیں، اپنی بیٹی کے شوق کے لیے اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ لینی پڑی تاکہ وہ اپنی بیٹی کے مصروف ترین شیڈول میں اسکا خیال رکھ سکیں۔

اتنے بڑے اور اہم مقابلے کے لیے ٹریننگ کے ساتھ ساتھ اچھی خوراک کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ رباب اس کے لیے خاص خوراک لیتی ہیں جس میں وٹامن، پروٹین اور دیگر غذائی اجزا متوازن مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

اس خاص خوراک کا خرچ بھی خاص ہوتا ہے اور رباب کے والد سبطین رضاہی یہ سب خرچ برداشت کرتے ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ ان کے خاندان کے لیے ایک فخر ہے۔

یہی نہیں سوئمنگ پول کوچ کی فیس اور بہت سے دوسرے لوازمات کے لیے بھی اخراجات رباب کے والدین کو اپنی جیب سے بھرنے پڑتے ہیں۔

پاکستان سوئمنگ فیڈریشن کی جانب سے رباب کو محض پندرہ سو ماہوار کا وظیفہ ملتا ہے جبکہ ایتھنز المپکس کی تیاری اتنی سستی نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد